ایم ڈی ورلڈ بینک کا خاتون اول اور وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ دورہ شہید بےنظیرآباد
ایم ڈی ورلڈ بینک کا خاتون اول اور وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ دورہ شہید بےنظیرآباد
Posted on: 24 May 2025 Tags:گاؤں نظر محمد لغاری میں سیلاب متاثرین کےلیے تعمیر کردہ گھروں کا معائنہ
آصفہ بھٹو زرداری اور انا بیجیردے نے خواتین میں گھروں کے مالکانہ حقوق کی اسناد تقسیم کیں
ورلڈ بینک کی ایم ڈی نے سندھ حکومت کی کارکردگی کو سراہا، مسلسل تعاون کی یقین دہانی
ورلڈ بینک کے تعاون سے اب تک 7 لاکھ ، 78 ہزار مکانات تعمیر ہو چکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
شہید بینظیر آباد (23 مئی) ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر انا بیجیردے نے خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسین کے ہمراہ ضلع شہید بینظیر آباد کے گاؤں نظر محمد لغاری میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے تحت جاری ہاؤسنگ پروجیکٹ کا دورہ کیا۔
یہ منصوبہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹڈ ( ایس پی ایچ ایف) پروگرام کے تحت 2022 کے تباہ کن سیلاب سے تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر نو کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
دورے کے دوران خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری اور ورلڈ بینک کی ایم ڈی انا بیجیردے نے خواتین مالکان کو گھروں کے ملکیتی حقوق کے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور ویلیج ریکنسٹرکشن کمیٹی ( وی آر سی) کی خواتین ارکان سے ملاقات کی جنہوں نے اپنے ہاتھ سے تیار کردہ ہنر کا مظاہرہ بھی کیا۔ کمیٹی نے آگاہ کیا کہ گاؤں میں 32 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے جن کی تعمیر نو اب مکمل ہو چکی ہے۔
انا بیجیردے نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے سندھ حکومت کی کوششوں کو سراہا اور ورلڈ بینک کی جانب سے مسلسل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مقامی عوام کی ہمت اور قیادت کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کے باوجود پائیدار کمیونٹی سطح کی بحالی ممکن ہے۔
خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ ایس پی ایچ منصوبے کے تحت خواتین کو ملکیتی حقوق دینا سندھ حکومت کا ایک تاریخی سماجی و اقتصادی اقدام ہے جو دیہی خواتین کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں 24 لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہو گئے تھے۔ بحالی کا عمل شروع کرنے کے لیے ورلڈ بینک نے ابتدائی طور پر 500 ملین ڈالر فراہم کیے جس میں بعد ازاں دو سال کے دوران مزید 450 ملین ڈالر کا اضافہ کیا گیا۔ اس مالی تعاون کے تحت اب تک 7 لاکھ 78 ہزار مکانات تعمیر ہو چکے ہیں جبکہ پانی، صفائی اور حفظان صحت (واش) کے منصوبوں کے لیے 54.92 ملین ڈالر مختص کیے گئے جس سے 1,000 دیہاتوں میں 66,691 خاندانوں کو فائدہ پہنچا۔
ایس پی ایچ ایف کے سی ای او خالد محمود شیخ نے بریفنگ میں بتایا کہ صرف ضلع شہید بینظیر آباد میں 1,04,822 مکانات تباہ ہوئے جن میں سے تقریباً 60,000 مکانات زیر تعمیر ہیں جبکہ قریب 40,000 مکمل ہو چکے ہیں۔ سندھ بھر میں 1,11,000 سے زائد معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی مکانات بنائے جا رہے ہیں جبکہ 8 لاکھ سے زائد خواتین نے پہلی بار بینک اکاؤنٹس کھلوائے ہیں جس سے مالی شمولیت کو فروغ ملا ہے۔
اس پروگرام کے تحت اب تک 60 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ رہائش فراہم کی جا چکی ہے اور 10 لاکھ سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ یہ دورہ ورلڈ بینک اور حکومت سندھ کے درمیان جاری تعاون کا مظہر ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ کمزور طبقات کے روزگار کی بحالی اور بااختیار بنانا ہے۔
Back