اللہ کے فضل سے سندھ میں 9 تا 10 لاکھ کیوسک کا ریلہ آنے کا خطرہ ٹل گیا، وزیراعلیٰ سندھ
اللہ کے فضل سے سندھ میں 9 تا 10 لاکھ کیوسک کا ریلہ آنے کا خطرہ ٹل گیا، وزیراعلیٰ سندھ
Posted on: 15 Sep 2025 Tags:کراچی (10 ستمبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سیلابی صورتحال اس بار مختلف نوعیت کی تھی کیونکہ اس بار انڈس کے بجائے مشرقی دریاؤں میں زیادہ پانی آیا۔ انہوں نے بتایا کہ راوی اور ستلج میں ہائی فلو آیا جس نے پنجاب کے آخری بیراج پر شدید دباؤ ڈالا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دو روز قبل پنجاب کے چاروں دریاؤں سے چھ لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزرا جو بعد ازاں سندھ کی طرف بڑھا۔ اس وقت گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ کیوسک رہا جبکہ ابتدائی تخمینے کے مطابق چھ سے ساڑھے چھ لاکھ کیوسک تک پانی آنے کی توقع تھی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آٹھ سے گیارہ لاکھ کیوسک کا اندازہ ظاہر کیا تھا لیکن صوبائی محکمہ آبپاشی کے تخمینے زیادہ درست ثابت ہوئے۔ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ اب تک کی صورتحال کے مطابق پانی ساڑھے پانچ سے چھ لاکھ کیوسک سے زیادہ نہیں ہوگا، لہٰذا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے ممکنہ سپر فلڈ سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی اور بھرپور تیاری کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے نے 9 لاکھ کیوسک پانی کے بہاؤ کے لیے حکمتِ عملی تیار کی تھی تاکہ عوام کی جانیں اور املاک محفوظ بنائی جا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح عوام کی جان بچانا تھی۔ اس مقصد کے لیے کچے کے علاقے میں 5 سے 7 لاکھ کیوسک پانی کے بہاؤ تک دیہات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان دیہات کی متوقع آبادی اور مویشیوں کے اعداد و شمار بھی اکٹھے کیے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر پانی کی سطح 7 لاکھ کیوسک سے اوپر جاتی اور 9 لاکھ کیوسک تک پہنچتی تو فوری طور پر ایمرجنسی پلان نافذ کیا جانا تھا۔ ہم نے پہلے ہی 7 لاکھ کیوسک تک کے رہائشیوں کو ایویکویٹ کرنے کا منصوبہ تیار کر رکھا تھا تاکہ انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے تجربے اور ماضی کے واقعات کی بنا پر صورتِ حال کا بخوبی علم ہوتا ہے، اس لیے ان کا تعاون بھی حاصل کیا گیا۔ ہماری تیاری اس طرح تھی کہ اگر پانی کا دباؤ بڑھتا تو ہمیں کم از کم دو دن کا وقت مل جاتا تاکہ بروقت ایویکویشن اور ریلیف سرگرمیاں انجام دی جا سکیں۔
سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل سے سندھ میں 9 تا 10 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ آنے کا خطرہ اب نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صوبے کے بڑے حصے بالخصوص کچے کے علاقے، جو عموماً ہر سیلاب میں زیرِ آب آ جاتے ہیں، اس بار بڑے نقصان سے بچ جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کچہ دریا کے دونوں کناروں پر ڈائیٹس کے بیچ کا علاقہ ہے اور اس وقت بھی پانی وہاں موجود ہے، مگر صورتحال قابو میں ہے۔ 24 اگست کو 5.47 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج سے گزارا گیا جو کہ انڈس کے مرکزی بہاؤ کا حصہ تھا۔ یہ ایک بڑا دباؤ تھا جسے ہم کامیابی سے سنبھال چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 لاکھ کیوسک سے زائد پانی کا جو خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، وہ اب ٹل گیا ہے اور امید ہے کہ صورتحال مزید بہتر ہوگی۔
سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں حالیہ دنوں ملیر ندی اور لیاری ندی میں آنے والا طغیانی کا پانی دراصل بلوچستان اور سندھ کے دیگر علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ صرف کراچی کی بارشوں کا۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ وہ خود گڈو بیراج، سکھر بیراج اور ڈائیکس کا معائنہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے چوبیس گھنٹوں کے اندر کراچی سے گڈو کا پورا سفر کیا اور واپسی پر بھی ہر جگہ بارش دیکھنے کو ملی۔ کراچی میں بھی کل شام تک بارش وقفے وقفے سے جاری رہی اور شام کے وقت اس کی شدت بڑھ گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ برساتی نالوں خصوصاً مول نالہ اور ملیر نالے کے ساتھ دیگر ندی نالوں سے آنے والا پانی کراچی میں داخل ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ایک پرانا مسئلہ تھدو نالہ اور نادرن بائی پاس کا ہے۔ بائی پاس کی تعمیر سے پانی کا قدرتی راستہ بند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے شدید بارش کے دوران پانی سپر ہائی وے (M9) کو اوور ٹاپ کر گیا اور ساددی گارڈنز جیسے علاقوں میں داخل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہی صورتحال 2020 اور 2022 میں بھی پیش آچکی تھی۔ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے حکومت سندھ منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ دوبارہ شہری آبادی متاثر نہ ہو۔
سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد ملیر ندی اور لیاری ندی میں آنے والے پانی نے دوبارہ کئی علاقے متاثر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2020 کے بعد بھی واضح کیا گیا تھا کہ موٹر وے M9 پر کلورٹ کو بڑا کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کا قدرتی بہاؤ متاثر نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس سلسلے میں انٹروینشن بھی کی ہے، لیکن کلورٹ کی توسیع باقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی سپر ہائی وے کے اطراف آبادیوں میں داخل ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملیر اور لیاری ندی کے اطراف جو علاقے متاثر ہوئے ہیں، ان میں زیادہ تر کچی آبادیاں ہیں جہاں برسوں سے لوگ مکانات تعمیر کرتے آئے ہیں۔ یہ علاقے بنیادی طور پر پانی کے گزرنے کی جگہیں تھیں، لیکن وہاں رہائشی آبادیاں بن جانے سے بار بار سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ان مسائل کے مستقل حل کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو مستقبل میں ایسی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ملیر ندی میں آنے والے پانی کے باعث زیرِ تعمیر شاہراہ بھٹو پر ایک دراڑ ضرور آئی ہے تاہم یہ کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ روڈ M-9 تک جا رہا ہے اور انشااللہ دسمبر تک مکمل ہوگا، فی الحال اس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک پر دراڑ کے بعد فوری مرمتی اور پچنگ کا کام کیا گیا ہے، اس لیے شہریوں کو کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔
سید مراد علی شاہ نے بعض اپوزیشن اراکین کی سوشل میڈیا پر کی گئی باتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ حساس وقت میں افواہیں پھیلانا درست نہیں ہے۔ اگر آپ متاثرین کی مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم جھوٹی باتوں کے ذریعے عوام میں مزید پریشانی نہ پھیلائیں۔
Back