دیہی علاقوں تک صحت سہولیات کی رسائی، ورلڈ بینک سندھ حکومت کی کاوشوں کا معترف

دیہی علاقوں تک صحت سہولیات کی رسائی، ورلڈ بینک سندھ حکومت کی کاوشوں کا معترف

Posted on: 24 May 2025   Tags:

ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطح کے وفد کا شہید بےنظیر آباد میں بنیادی صحت مرکز کا دورہ

ورلڈ بینک کی ایم ڈی، کنٹری ڈائریکٹر ، وزیراعلیٰ سندھ اور خاتون اول آصف بھٹو زرداری بھی ہمراہ

ورلڈ بینک کے وفد انسانی وسائل اور اسٹرکچر کو معیاری قرار دیا

بی ایچ یو ایک بہترین ادارہ ہے جو معیاری طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

شہید بینظیر آباد (23 مئی) ورلڈ بینک نے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی اور ان کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ یہ اظہار ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی جانب سے شہید بینظیر آباد میں بیسک ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) کے دورے کے بعد کیا گیا۔

ورلڈ بینک کی آپریشنز مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) انا بیجیردے اور کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن ہاسین کی سربراہی میں وفد نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کے ہمراہ بی ایچ یو جام صاحب کا دورہ کیا جہاں انہوں نے طبی عملے اور مریضوں سے ملاقات کی اور صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا۔

دورے کے دوران وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کے وفد نے بیسک ہیلتھ یونٹ جام صاحب کا معائنہ کیا اور صحت کی سہولیات کا براہ راست مشاہدہ کرنے کےلیے کارکنان و مریضوں سے بات چیت کی۔ صوبائی وزیر صحت اور پی پی ایچ آئی کے سی ای او جاوید جاگیرانی نے بی ایچ یو میں مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور فراہم کردہ خدمات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بی ایچ یو جام صاحب ہر ماہ تقریباً 20,310 مریضوں کو خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں ماہانہ اوسطاً 5,471 مریض آتے ہیں جو مقررہ ہدف سے 162 فیصد زیادہ ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات نے اپنے اہداف سے 125 فیصد زیادہ کارکردگی دکھائی جبکہ مانع حمل خدمات کا شعبہ ماہانہ ہدف کا 71 فیصد حاصل کر پایا۔ زچگی کی خدمات نے 95 فیصد اہداف حاصل کیے اور حمل کے ابتدائی مراحل (پہلی سہ ماہی) کی جانچ سمیت قبل از پیدائش نگہداشت کی کارکردگی 101 فیصد ہدف کے ساتھ توقعات سے بڑھ کر رہی۔

بی ایچ یو میں حمل سے متعلق اہم ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں، غذائی مشورے دیے جاتے ہیں، آئرن کی کمی کا علاج کیا جاتا ہے، حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں اور پیچیدگیوں کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے۔ حمل کی دوبارہ جانچ میں اوسط کارکردگی 123 فیصد رہی جو قابلِ ستائش ہے۔

یو ایف آئی او میں غذائیت کی اسکریننگ کے تحت 1,140 افراد کو دیکھا گیا تاکہ غذائی قلت سے بچاؤ اور بروقت علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ تشویشناک طور پر 29 بچے شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے جو توقع سے زیادہ ہے اور تشویش کا باعث بنا۔ اس کے باوجود شدید غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے بی ایچ یو کی کوششیں ایک فیصد اضافی کارکردگی کے ساتھ مقررہ ہدف سے آگے نکل گئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف شعبہ جات میں فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ورلڈ بینک کے وفد نے بی ایچ یو کے بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں آٹھ کمروں پر مشتمل عمارت بھی شامل ہے اور مجموعی طور پر اسے تسلی بخش قرار دیا۔ انہوں نے بیرونی دیواروں اور چھت کی اچھی حالت، پینے کے پانی کی فراہمی اور بجلی کے فعال نظام کو سراہا جو صحت کی سہولیات کے تسلسل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس کے علاوہ سولرائزڈ پاور سسٹم، سی سی ٹی وی نگرانی اور بایومیٹرک حاضری کا نظام بھی مکمل طور پر فعال پایا گیا۔ عملے اور عوام کے لیے فعال بیت الخلا کی دستیابی، نیز موبائل اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کو بھی موجودہ دور کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا گیا۔

مجموعی طور پر ورلڈ بینک کے وفد کو انسانی وسائل کے معیار اور بنیادی سہولیات سے متعلق بریفنگ دی گئی جنہیں انہوں نے اچھے معیار کی حامل قرار دیا۔ شہید بینظیر آباد کے بی ایچ یو کے مختلف شعبہ جات کو فعال اور قابلِ استعمال پایا گیا جس سے یہ ادارہ مقامی کمیونٹی کے لیے ایک قابلِ اعتماد طبی مرکز ثابت ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بی ایچ یو کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک بہترین طبی ادارہ قرار دیا جو شہید بینظیر آباد کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اسپتال میں جدید طبی آلات کی موجودگی اور تجربہ کار ڈاکٹروں و نرسوں کی دستیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بی ایچ یو شہید بینظیر آباد ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد صحت کا ادارہ ہے جو کمیونٹی کی ضروریات کو بخوبی پورا کر رہا ہے۔
#SindhCMHouse

Back