دریائے سندھ میں غیر معمولی سیلاب، صوبے کیلئے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، مراد علی شاہ

دریائے سندھ میں غیر معمولی سیلاب، صوبے کیلئے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، مراد علی شاہ

Posted on: 04 Sep 2025   Tags:

کراچی (03 ستمبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال دریائے سندھ کے مختلف حصوں میں آنے والا سیلاب غیر معمولی نوعیت کا ہے جس کی شدت نے صوبے کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال دریائے راوی، ستلج اور چناب میں غیر متوقع اور شدید سیلاب آیا ہے، جس کی وجہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے ساتھ ساتھ شدید بارشیں بھی ہیں۔

 

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ یہ پانی اس وقت پنجاب کے راستے گزر کر سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہم مسلسل اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پنجند کے مقام پر پنجاب کے تمام دریا ملتے ہیں اور وہاں سے پانی کا رخ براہِ راست گڈو بیراج کی طرف ہوتا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ تینوں دریاؤں کا پانی ایک ساتھ سندھ میں داخل نہیں ہوگا، بلکہ مرحلہ وار پہنچے گا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے چناب کا پانی، اس کے بعد راوی کا اور آخر میں ستلج کا پانی آئے گا، جس سے صورتحال کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر یہی پیٹرن برقرار رہا تو سندھ دریا کے پانی کو محفوظ طریقے سے سمندر تک گزارنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر عوام کو یقین دلایا کہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر مکمل تیاری کر رکھی ہے اور خاص طور پر کچے کے علاقے کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی جانب سے پہلے ہی وارننگ دی گئی تھی کہ گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 11 سے 12 لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے، جس کے بعد صوبائی حکومت نے ہائی فلو کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری تین بنیادی ترجیحات ہیں: سب سے پہلے انسانی جانوں اور مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا، دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ سکھر، کوٹری اور گڈو بیراج کو محفوظ رکھا جائے، اور تیسرا سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ دریائی بند ٹوٹنے نہ پائیں تاکہ پانی صرف دریا کے اندر ہی رہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کچے کا علاقہ پانی میں ڈوب جائے گا، تاہم وہاں کے کئی دیہات بلند مقامات پر واقع ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے باقاعدہ ڈیٹا بیس تیار کیا ہے، جس میں یہ درج ہے کہ پانچ سے سات لاکھ کیوسک پانی آنے کی صورت میں کون سے گاؤں متاثر ہوں گے، وہاں کتنے افراد اور مویشی بستے ہیں۔ اسی طرح سات سے نو لاکھ کیوسک اور نو لاکھ سے زائد پانی کے لیے بھی علیحدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پہلی سطح کے تحت انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور لوگ اپنے مویشیوں سمیت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کم از کم دو دن کا وقت ہوتا ہے جس دوران پانی کی سطح بڑھنے کی پیشگوئی کے مطابق مزید ایویکیوشن کرایا جاتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ اگر موسم میں اچانک شدید بارشیں ہو جائیں تو صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے، تاہم حکومت سندھ فوری ردعمل اور مسلسل نگرانی کے نظام کے ذریعے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں آنے والے حالیہ سیلاب نے وہاں کی حکومتوں اور عوام کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرایا ہے اور ہم اس مشکل وقت میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے بھی ماضی میں بڑے پیمانے پر آنے والے سیلابوں کا سامنا کیا ہے اور اس تجربے کی بنیاد پر موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سال 2010 میں صوبے نے ساڑھے گیارہ لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزارا تھا اور اس وقت بھی حکومت نے انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کو بچانے کے لیے کامیاب حکمت عملی اختیار کی تھی۔ انہوں نے کہا ہمیں اس بار بھی پورا یقین ہے کہ اگر ہم منظم رہیں اور مربوط اقدامات کریں تو موجودہ صورتحال پر قابو پا سکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی وزراء کو گڈو اور سکھر بیراج کے ریجنز میں تعینات کیا گیا ہے جبکہ دونوں کناروں پر نگرانی کے لیے خصوصی ڈیوٹیز لگائی گئی ہیں۔ ارکانِ صوبائی اسمبلی کو بھی اپنی اپنی حلقہ بندیوں میں الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ بروقت عوام کی مدد کی جا سکے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی نے دو لاکھ خیمے اور دیگر ریلیف کا سامان تیار کر لیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متاثرین کو فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تجربہ بھی ہے اور تیاری بھی، کیونکہ سندھ ہر سال ان مشکل مراحل سے گزرتا ہے۔ ہم ہر ممکن قدم اٹھائیں گے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ایسے وقت میں کسی بھی متنازعہ تجویز پر بحث کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہو چکے ہیں اور پوری قوم کو اس وقت یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

کالاباغ ڈیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں اپنے صوبے کے عوام اور صوبائی اسمبلی کے مؤقف کا پابند ہوں۔ سندھ اسمبلی متعدد بار قراردادیں منظور کر چکی ہے جن میں کالاباغ ڈیم کی مخالفت کی گئی ہے۔ اس لیے یہ منصوبہ سندھ کے عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت توجہ کا مرکز صرف اور صرف سیلاب متاثرین کی بحالی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا ملک کو متحد ہو کر موجودہ آزمائش کا مقابلہ کرنا ہے، کسی قسم کی تقسیم یا تنازعہ پیدا کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اپنے عوام کے مفادات اور اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق پالیسیاں اختیار کرتی ہے اور آئندہ بھی عوامی اعتماد کو مدنظر رکھا جائے گا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ڈیمز اور نہروں کے حوالے سے تکنیکی حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور سیلابی پانی کے موجودہ بہاؤ کو ان منصوبوں کے ساتھ جوڑنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ راوی، ستلج، چناب اور جہلم کا پانی اس وقت مختلف سمتوں میں بہہ رہا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب کالا باغ تک پہنچ پاتا؟

انہوں نے کہا کہ خوشک نہروں کا منصوبہ پہلے بھی زیرِ غور آیا تھا لیکن تکنیکی تجزیے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ چار ہزار کیوسک کی نہر کسی صورت بھی سیلابی پانی کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا یہ دو بالکل الگ معاملات ہیں، جنہیں بعض لوگ لاعلمی میں ملا دیتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ اگر کوئی منصوبہ ملک کے مجموعی فائدے کے لیے ہوگا اور اس سے عوام کو نقصان نہ پہنچے تو سندھ حکومت ضرور اس کی حمایت کرے گی۔ مراد علی شاہ نے کہا ہم کبھی بھی ایسا منصوبہ نہیں روکیں گے جو پورے ملک کے مفاد میں ہو، لیکن اگر کوئی پروجیکٹ نقصان دہ ثابت ہو تو پھر اس پر تحفظات رکھنا بالکل جائز ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں سب سے اہم بات سیلاب متاثرین کی مدد اور متاثرہ علاقوں کی بحالی ہے، نہ کہ پرانے تنازعات کو دوبارہ زندہ کرنا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ کونسل آف کامن انٹرس (CCI) کے اجلاس میں کالاباغ ڈیم سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، اور اس حوالے سے سامنے آنے والے بیانات درست نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اجلاس کے باضابطہ منٹس جاری ہو چکے ہیں جن میں اس نوعیت کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ گنڈہ پور صاحب منتخب وزیرِاعلیٰ ہیں، میں یہ نہیں کہوں گا کہ انہوں نے غلط بات کی، لیکن ایسے مشکل وقت میں متنازعہ معاملات کو اٹھانا مناسب نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں اور کروڑوں متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا یہ وقت تقسیم یا اختلاف کا نہیں بلکہ متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے متحد ہو کر کام کرنے کا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت اپنے عوام کے ساتھ ساتھ دیگر صوبوں کے متاثرین کی بحالی میں بھی تعاون جاری رکھے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ رکھے اور کہا کہ ہم سب مل کر ہی اس آزمائش سے سرخرو ہو سکتے ہیں۔

Back