مائی کراچی ایکسپو شہر کی معیشت اور ثقافتی تنوع کی عکاس، چیلنجز کے باوجود کامیابی سے جاری ہے: وزیراعلیٰ سندھ

مائی کراچی ایکسپو شہر کی معیشت اور ثقافتی تنوع کی عکاس، چیلنجز کے باوجود کامیابی سے جاری ہے: وزیراعلیٰ سندھ

Posted on: 20 Feb 2026   Tags:
کراچی (8 فروری): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ’’مائی کراچی ایکسپو‘‘ شہر کےکیلنڈر کا ایک اہم اور مستقل باب بن چکا ہے، جو متعدد چیلنجز کے باوجود کراچی کی مضبوطی، تنوع اور معاشی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔21ویں مائی کراچی نمائش سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کو ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اورایونٹ کے تسلسل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتوار نمائش کا آخری دن ہے، جس میں گزشتہ چند دنوں کے دوران لاکھوں شہریوں نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نمائش میں کئی دوست ممالک نے اپنے اسٹالز قائم کیے ، جہاں بین الاقوامی شراکت داروں نے اپنی مصنوعات اور ثقافت کی نمائش کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں لوگوں کی بڑی تعداد نے ایکسپو کا رخ کیا اور خریداری و کاروباری سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔انہوں نے حالیہ افسوسناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد سانحہ کی وجہ سے قوم ابھی تک غمزدہ ہے جبکہ کراچی میں گل پلازہ واقعہ بھی عوام کے لیے نہایت تکلیف دہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے سی سی آئی کے ساتھ مل کر گل پلازہ کے متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ ممکن حد تک نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ بیشتر چیلنجز کے باوجود سندھ ایک متحرک صوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کراچی میں بڑے پیمانے پر علاقائی اور بین الاقوامی ایونٹس منعقد ہوئے، جن میں ساتویں سائوتھ ایسٹ ایشین پارلیمنٹیرینز سیشن، کراچی لٹریچر فیسٹیول کا 17واں ایڈیشن اور حضرت لعل شہباز قلندر کے 774ویں عرس کی تقریبات شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ چند ماہ قبل منعقد ہونے والا بین الاقوامی ثقافتی میلہ تقریباً 39 دن تک جاری رہا۔وزیراعلیٰ نے سندھ خصوصاً کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ثقافتی، اسپورٹس، کاروباری اور ادبی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد جب صوبے کا تقریباً 70 فیصد حصہ زیرِ آب آ گیا تھا تو سندھ کے عوام نے بڑی دلیری کا مظاہرہ کرتےہوئے بحالی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پُرامن احتجاج آئینی حق ہے، تاہم اسے قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شکایات اور تحفظات کے اندراج کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں اور معاملات کو میڈیا ٹرائل کے بجائے ادارہ جاتی اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔پاکستان پیپلزپارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عوام کے حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر کرنے کے حوالے سے کہا کہ عوام کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ فائر بریگیڈ کے نظام میں بہتری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام پہلے مختلف اداروں میں تقسیم تھا جسے اب ایک ہی چھتری تلے لانے کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے فائر بریگیڈ کے نظام کو بہتر بنانے، بشمول تربیت اور تعاون کی پیشکش کی ہے تاکہ آتشزدگی کے واقعات پر بروقت ردِعمل یقینی بنایا جا سکے۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ کراچی بھر میں سڑکوں، فلائی اوورز اور ایمرجنسی رسپانس میکانزم کی بہتری پر کام جاری ہے۔ انہوں نے زیادہ عوامی آمدورفت والی عمارتوں میں بنیادی حفاظتی اقدامات جیسے واضح ایگزٹ سائن بورڈز اور الارم سسٹم کے نفاذ کی اہمیت پر زور دیا تاکہ بڑے نقصانات سے بچا جا سکے۔کے-فور (K-IV) پانی کے منصوبے کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منصوبہ تقریباً 10 سے 11 سال قبل شروع ہوا تھا، تاہم ناقص منصوبہ بندی، بجلی کے مسائل، لاگت پر اعتراضات اور فنڈنگ کے باعث تاخیر کا شکار رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اب وفاقی حکومت نے ورلڈ بینک کی معاونت سے مرکزی لائن کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد شہر میں پانی کی قلت میں کمی آئے گی۔قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مائی کراچی ایکسپو سینٹر میں مختلف اسٹالز کا دورہ کیا، نمائش میں شریک افراد سے گفتگو کی اور میڈیا سے بات چیت کی۔ کے سی سی آئی کی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ سندھ کا استقبال کیا اور نمائش کے انتظامات اور مقاصد سے آگاہ کیا۔
Back