مراد علی شاہ کا نئے بجٹ میں معیشت کو متحرک کرنے کےلیے کئی اصلاحات کا اعلان
مراد علی شاہ کا نئے بجٹ میں معیشت کو متحرک کرنے کےلیے کئی اصلاحات کا اعلان
Posted on: 27 Jun 2025 Tags:زرعی، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بڑا ٹیکس ریلیف دے دیا گیا
سب سے زیادہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیا، زراعت اور خدمات بھی مستفیذ
کراچی (25 جون) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 26-2025 کے بجٹ تخمینوں کے تحت معیشت کو متحرک کرنے، مشکلات کا شکار شعبوں کی مدد کرنے اور عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے ریلیف اقدامات کے ایک جامع پیکج کا اعلان کیا ہے۔
فنانس بل کے تحت تجویز کردہ ریلیف کے علاوہ، متعدد اہم چھوٹیں پہلے ہی نوٹیفکیشنز اور موجودہ قواعد و قوانین میں ترامیم کے ذریعے نافذ کی جا چکی ہیں۔ یہ اقدامات ٹیکس اور غیر ٹیکس دونوں شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں، جن میں زراعت، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور چھوٹے کاروبار شامل ہیں۔
ریلیف اقدامات
زرعی شعبے کے لیے ریلیف
کپاس فیس کا خاتمہ
کپاس کی پیداوار میں 30.7 فیصد کمی اور مجموعی زرعی ترقی کی کم شرح (0.56 فیصد) کے پیش نظر کسانوں کی مدد کے لیے کپاس فیس ختم کر دی گئی ہے۔
نکاسیٔ آب سیس کا خاتمہ
موسمی اثرات اور کاشتکاری میں کمی کے باعث گندم (-8.9 فیصد)، گنا (-3.9 فیصد)، مکئی (-15.4 فیصد) اور چاول (-1.4 فیصد) جیسی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ اس تناظر میں حکومت نے نکاسیٔ آب سیس بھی ختم کر دیا ہے۔
مختلف ریونیو چارجز میں 50 فیصد کمی
فرد فیس
تصدیق شدہ نقولات
سیل سرٹیفکیٹ
مالی حیثیت (سولونسی) سرٹیفکیٹ
وراثتی سرٹیفکیٹ
کمرشل گاڑیوں کے لیے فلیٹ سالانہ ٹیکس
کمرشل گاڑیوں پر سالانہ ٹیکس کم کر کے صرف 1,000 روپے کر دیا گیا ہے جس سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے شعبے کو بڑا ریلیف ملے گا۔
فنانس بل 26-2025 کے تحت بڑی قانون سازی میں اصلاحات
وزیراعلیٰ سندھ نے سات متعلقہ قوانین میں ترامیم یا منسوخی کی تجاویز پیش کیں جنہیں اسمبلی نے منظور کر لیا۔ ان میں شامل ہیں
1۔ اسٹامپ ایکٹ، 1899
2۔ موٹر گاڑیاں ایکٹ، 1939
3۔ سندھ تفریحی ڈیوٹی ایکٹ، 1958 (منسوخ کر دیا گیا)
4۔ سندھ موٹر گاڑیوں پر ٹیکسیشن ایکٹ، 1958
5۔ سندھ فنانس ایکٹ، 1964 – سیکشن 11 (پیشہ ورانہ ٹیکس ختم)
6۔ سندھ سیلز ٹیکس بر خدمات ایکٹ، 2011
7۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ، 2013 – سیکشن 95 (لوکل سیس ختم)
عوام کے براہ راست فائدے کے لیے اقدامات
اسٹامپ ڈیوٹی میں کمی
تیسری پارٹی موٹر انشورنس پر اسٹامپ ڈیوٹی اب صرف 50 روپے مقرر
موٹر سائیکل انشورنس سے استثنا
مالی سال 2025-26 سے دو پہیہ گاڑیاں لازمی انشورنس کی شرط سے مستثنیٰ
تفریحی ڈیوٹی کا خاتمہ
سینما، ڈرامہ تھیٹرز، آرٹ کونسلز، واٹر پارکس اور ثقافتی تقریبات سمیت مکمل شعبہ ٹیکس فری کردیا گیا تاکہ سستی تفریح اور ثقافتی فروغ ممکن ہو
موٹر وہیکل اور پروفیشنل ٹیکس میں بڑی کمی
کمرشل گاڑیوں پر ٹیکس
مال بردار اور عوامی ٹرانسپورٹ چلانے والوں کے لیے سالانہ ٹیکس کم کر کے 1,000 روپے کر دیا گیا
پروفیشنل ٹیکس کا خاتمہ
5 ارب روپے کے ریلیف سے متعدد شعبے مستفید ہوں گے جن میں شامل ہیں
سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین
تعلیمی و طبی ادارے
بیکریاں، جیولرز، ٹرانسپورٹرز، کلینکس، سیلونز وغیرہ
سندھ سیلز ٹیکس (ایس ایس ٹی) میں اصلاحات
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ نیشنل فِسکل پیکٹ 2024 کے تحت وفاقی حکومت اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ سہولت معاہدے کے مطابق سندھ اب مثبت فہرست سے منفی فہرست نظام کی طرف جا رہا ہے یعنی تمام خدمات قابلِ ٹیکس ہوں گی سوائے ان کے جو خاص طور پر مستثنیٰ ہوں۔
منفی فہرست میں شامل نئی مستثنیٰ خدمات
مسافروں کی سڑک کے ذریعے نقل و حمل
سماجی نگہداشت کی خدمات
کتب خانے، آرکائیوز اور نیوز ایجنسیاں
صفائی کی خدمات
زرعی اسٹوریج اور انشورنس
مذہبی یا زرعی استعمال کے لیے جائیداد کا کرایہ
ویٹرنری اور تحقیق و ترقی کی خدمات
اہم خدمات کے لیے کم نرخ
آن لائن ٹیکسی سروسز: 5 فیصد
بس اسٹیشن خدمات: 5 فیصد
موٹر گاڑیوں کی انشورنس: 5 فیصد
تعلیمی خدمات (فی طالب علم 5 لاکھ روپے سے زائد): 3 فیصد
طبی خدمات (فی نشست 3 ہزار روپے سے زائد): 3 فیصد
مال برداری کی خدمات: 8 فیصد (چند مخصوص اشیاء پر 3 فیصد)
چھوٹے کاروباروں کے لیے استثنا کی حد میں اضافہ
سالانہ کاروباری آمدنی 40 لاکھ روپے سے کم رکھنے والے کاروبار اب سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے
ریستوران اور کیٹرنگ سروسز کے لیے استثنا کی حد 25 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دی گئی ہے جس سے سالانہ 40 کروڑ روپے کا ریلیف دیا جائے گا۔
خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس (ایس ایس ٹی) کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئیجس سے درج ذیل شعبے مستفید ہوں گے
بیوٹی پارلرز
سیکیورٹی سروسز
فرنچائز/دانشورانہ املاک (آئی پی آر) کی خدمات
اسپورٹس سینٹرز
صفائی (جینیٹوریل) سروسز
تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس ٹیکس میں کمی ، شرح 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی تاکہ انشورنس کا دائرہ وسیع ہو سکے۔
کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے معاونت
لوکل سیس کا خاتمہ
سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت یہ ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، جس سے پیداواری لاگت میں کمی اور زرعی منافع میں بہتری متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کے یہ جامع ریلیف اقدامات ایک ترقی پسند، عوام دوست مالیاتی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، رجعتی ٹیکسوں میں کمی اور زرعی، ٹرانسپورٹ اور چھوٹے کاروباری شعبوں کو بااختیار بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ صوبے میں بحالی، مساوات اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Back