وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کو یکسر مسترد کردیا
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کو یکسر مسترد کردیا
Posted on: 19 Dec 2025 Tags:کراچی (28 نومبر): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق تمام بحثوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، اللہ کے سوا کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں۔
انہوں نے یہ بات پورٹ گرانڈ میں منعقدہ سندھ کرافٹ فیسٹیول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ کی روایتی دستکاری اور فنون کے فروغ کے عزم پر زور دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ سندھ کے ثقافتی کام اور دستکاری کو وہ پہچان اور حوصلہ افزائی ملے جس کے وہ مستحق ہیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بار بار اٹھنے والی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کو مکمل طور پر رد کر دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ نئے صوبوں کی بات ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال دیں، اللہ کے سوا کسی میں سندھ کو تقسیم کرنے کی طاقت نہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی اور این ایف سی ایوارڈ کے حصے میں کمی کی تجاویز کو رد کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملات مجوزہ ستائیسویں ترمیم میں بھی مسترد کر دیے گئے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی “خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ہنر” رکھتی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے ترقیاتی وژن اور طرزِ حکمرانی کو اجاگر کیا۔
سندھ میں گورنر کی تبدیلی سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ نہ ان کا اور نہ ہی صوبائی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنروں کی تقرری میں ہم سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔
اپنی ذاتی پس منظر کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں وکیل کا بیٹا ہوں اور بہت اچھے وکلا کی صحبت میں کافی وقت گزارا ہے۔ اگر کسی نے دلائل دینے ہیں، تو اس کے لیے عدالتیں موجود ہیں۔ انہوں نے ان عناصر پر تنقید کی جو قانونی راستہ اختیار کیے بغیر بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں گئے بغیر ہی وکیلوں کی طرح رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔
امان و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے چند گروہوں کی جانب سے عوامی زندگی متاثر کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچاس سے 150 افراد پورے شہر کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ جب بار بار سڑکیں بند ہوں گی، تو حکومت کو کارروائی کرنا ہی پڑے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے کچھ معاملات کے لیے عمر کی حد مقرر کی تھی اور عدالت کی ہدایت کے بعد حکومت نے پانچ سال کی رعایت دی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم سے عدالت نے پوچھا اور ہم نے پانچ سال کی عمر میں رعایت دے دی۔