وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کے نائب صدر کی ملاقات

وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کے نائب صدر کی ملاقات

Posted on: 25 Jul 2025   Tags:

کراچی (25 جولائی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے لیے عالمی بینک کے نائب صدر اُسمان دیون کی قیادت میں آنے والے وفد سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی۔ عالمی بینک کی شراکت داری، خصوصاً 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران اور بعد میں دی گئی بھرپور معاونت پر گہری ستائش کا اظہار کیا۔

یہ اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزرا شرجیل میمن، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ناصر حسین شاہ، سردار شاہ، سعید غنی، جام خان شورو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، وزیر اعلیٰ کے مشیر خصوصی سلیم بلوچ، پرنسپل سیکریٹری وزیر اعلیٰ آغا واسف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجیم شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد سمیت دیگر نے شرکت کی۔

عالمی بینک کے وفد میں کنٹری ڈائریکٹر بولورما آمگابازر، نائب صدر کی معاون خصوصی لوبنا حاجی، علاقائی شعبہ جات کی ڈائریکٹر فاعدہ ایم سعادہ، اور المود ویٹز سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔

وزیر اعلیٰ نے حکومت سندھ اور عالمی بینک کے درمیان مختلف ترقیاتی شعبوں میں مضبوط اشتراک کو اجاگر کیا اور بتایا کہ اس وقت صوبے میں بینک کا کل فعال ترقیاتی حجم 4.012 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک سندھ کی ترقی میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ سیلاب کے بعد کی بحالی میں ان کی بروقت معاونت اور اہم شعبہ جات میں مسلسل شمولیت نے ہمیں اپنے اہداف کے حصول میں مدد فراہم کی۔

کثیر شعبہ جاتی تعاون

عالمی بینک اس وقت سندھ میں جن شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے ان میں سیلاب متاثرین کے لیے ہاؤسنگ منصوبہ، تعلیم، صحت، زراعت، دیہی علاقوں میں پانی، صفائی و حفظان صحت، کراچی کا شہری انفرا اسٹرکچر، توانائی، سماجی تحفظ اور سیلاب کے بعد کی تعمیر نو شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے حکومت سندھ کی ترقیاتی ترجیحات پر زور دیا جن میں پانی، صفائی اور حفظان صحت (واش)، صحت، تعلیم، توانائی اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری سرفہرست ہیں۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے چند اہم مسائل کی بھی نشاندہی کی جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی بینک کی ماہر خریداری محترمہ عظمیٰ صدف کے انتقال کے بعد کراچی میں مستقل بنیادوں پر خریداری کے ماہر کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ عظمیٰ صدف نے منصوبوں کے جائزے کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا اور ان کی کمی کے باعث خریداری اور جانچ کے عمل میں نمایاں تاخیر اور خلل پیدا ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ منصوبوں کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی بینک فوری طور پر کراچی میں ایک مستند خریداری ماہر تعینات کرے۔

سیلاب متاثرین کے لیے سندھ ہاؤسنگ منصوبہ

سال 2022 میں سندھ، پاکستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس سے 1 کروڑ 23 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، 21 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا اور 1,100 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ اسکولوں، سڑکوں، زراعت اور مویشیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

اس کے جواب میں، عالمی بینک اور بین الاقوامی شراکت داروں نے بحالی کی کوششوں کا آغاز کیا۔ وہ متاثرہ خاندانوں کے لیے پائیدار گھروں کی تعمیر میں مدد فراہم کر رہے ہیں جن میں سے 21 لاکھ گھروں میں سے 20 لاکھ کی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ اب تک 13 لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جبکہ 6 لاکھ گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔

یہ منصوبہ صنفی شمولیت کو بھی فروغ دیتا ہے جس کے تحت 3 لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ 10 لاکھ سے زائد متاثرہ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔ بحالی کے اس عمل میں حکومت اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مابین تعاون کمیونٹیز کی بحالی اور روزگار کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔

موسمیاتی لحاظ سے پائیدار ترقی کے لیے زون کی بنیاد پر صفائی و حفظان صحت حکمت عملی

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صفائی و حفظان صحت (واش) منصوبے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت نے دیہی آبادی کے لیے مقامی پانی کی دستیابی اور موسمیاتی حالات کے مطابق ٹیکنالوجی پر مبنی، ہدفی واش حکمت عملی تیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گاؤں اپنی جغرافیائی حیثیت کے مطابق ایک مخصوص حل کا مستحق ہے۔ یہ حکمت عملی پائیداری، مساوات اور مضبوطی کو یقینی بناتی ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ نتائج کے مطابق 48 فیصد دیہات زیر زمین پانی کے ذرائع تک رسائی رکھتے ہیں، 38 فیصد نہری پانی کے قریب (2,000 فٹ کے اندر) واقع ہیں، 23 فیصد دیہات لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین( ایل بی او ڈی)/رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین ( ایل بی او ڈی) کے قریب ہیں جبکہ 14 فیصد دیہات کو اب بھی قابل عمل پانی کی فراہمی کے حل کی ضرورت ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں صفائی و حفظان صحت (واش) منصوبے میں موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے سندھ کو چھ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں ساحلی، بنجر، زرعی اور سیلاب سے متاثرہ علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر علاقے کے لیے حل کی تیاری میں ڈرون سروے، مصنوعی ذہانت پر مبنی نقشہ سازی اور جیو ٹیگنگ کا استعمال کیا جا رہا ہے جس میں شراکت دار ادارے تعاون کر رہے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک مؤثر نگرانی اور آپریشن و مرمت (آپریش اینڈ مینٹیننس) نظام تشکیل دیا جا رہا ہے جبکہ صاف شدہ فضلہ پانی کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے منی جنگلات اور روزگار سے جڑے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ صرف بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہیں بلکہ سندھ کے ہر گھرانے کے لیے موسمیاتی لحاظ سے محفوظ اور باعزت زندگی کی تشکیل ہے۔

کراچی اربن موبیلٹی منصوبہ

شہری ٹرانسپورٹ کے جدید نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کراچی اربن موبیلٹی منصوبے کے لیے 17 کروڑ ڈالر سے زائد اضافی فنڈنگ کی درخواست دہرائی۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی بینک اب تک صرف 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی منظوری دے سکا ہے جو منصوبے کے مکمل دائرہ کار کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ناکافی ہے۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز کی بہتری کا منصوبہ (دوسرا مرحلہ)

وزیر اعلیٰ نے عالمی بینک سے مطالبہ کیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پراجیکٹ – فیز 2 کے لیے پروجیکٹ آپریشنز مینول کی منظوری کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قرض کی مؤثر عملداری کے لیے یہ واحد باقی شرط ہے۔ مراد علی شاہ نے عالمی بینک اور منصوبے کی انتظامیہ دونوں پر زور دیا کہ وہ 21 اگست 2025 کی مقررہ تاریخ سے پہلے اس عمل کو مکمل کریں، اور مزید کسی توسیع سے خبردار رہیں۔

سلیکٹ منصوبہ

سندھ ارلی لرننگ انہانسمنٹ تھرو کلاس روم ٹرانسفارمیشن (سلیکٹ) منصوبے کے تحت تمام اسکولوں کی تعمیر کے معاہدے مکمل طور پر دستخط ہو چکے ہیں۔ تاہم عمل درآمد میں تاخیر کے باعث یہ منصوبے مقررہ مدت یعنی 30 اپریل 2026 تک مکمل نہیں ہو سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے کی کامیاب تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے قرض کی مدت میں ایک سال کی توسیع یعنی اپریل 2027 تک کی درخواست کی۔ عالمی بینک کے وفد نے مطلوبہ رسمی کارروائیوں کے بعد توسیع پر آمادگی ظاہر کی۔

سماجی تحفظ یونٹ

سندھ میں سماجی تحفظ کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے منصوبے میں پیش رفت جاری ہے اور اب اس میں مزید سات اضلاع کو شامل کیا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ فی الحال دسمبر 2027 میں مکمل ہونا ہے۔ منصوبے کے دائرہ کار اور حالیہ رفتار کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اہداف کے مکمل حصول کے لیے ایک سال کی توسیع کی درخواست کی۔

وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ حکومت سندھ منصوبوں کے نفاذ میں ادارہ جاتی صلاحیت اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے عالمی بینک کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا اور صوبے بھر میں اہم ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل تعاون اور فوری فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔

Back