وزیراعلیٰ سندھ کا گل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقات کا حکم، فائر سیفٹی قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ سندھ کا گل پلازہ میں آتشزدگی کی تحقیقات کا حکم، فائر سیفٹی قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت

Posted on: 15 Feb 2026   Tags:
کراچی (18جنوری) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو آگ لگنے کی وجوہات کی فوری انکوائری کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمشنر کراچی حسن نقوی اور ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید کھوسو نے وزیراعلیٰ سندھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ رات 9:45 سے 10:15 کے درمیان آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ واقعے میں 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوئیں ۔ فائر فائٹنگ آپریشنز نے 60 سے 70 فیصد آگ پر قابو پالیا ہے جبکہ ریسکیو اور کولنگ آپریشن کا عمل ابھی جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ آگ لگنے سے 6 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے سول اسپتال کے برنس وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر ایمرجنسی ریسپانس کا آغاز کیا گیا جس میں 22 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 واٹر باؤزر، چار اسنارکل گاڑیاں اور 33 ریسکیو 1122 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ کاروباری حضرات کو ہونے والے بھاری مالی نقصان پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فائر فائٹرز نے شہریوں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔ انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔مراد علی شاہ نے ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو اداروں کو ہدایت کی کہ آگ پر مکمل طورپر قابو پانے اور حالات معمول پر آنے تک ریسکیو اور کولنگ آپریشن جاری رکھیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کو تمام تر خطرات کے خاتمے تک جائے وقوعہ پر موجود رہ کر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کرنی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نےسخت موقف اختیار کرتے ہوئے آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے اور مکمل تحقیقات کا حکم دیا کہ واقعہ کس غفلت یا کوتاہی سے پیش آیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عمارت میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور کہا کہ غفلت یا لاپرواہی کے مرتکب پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی بھر کی کمرشل عمارتوں کے فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا اور حکام کو ہدایت کی کہ مستقبل میں ایسے سانحات کو روکنے کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔مراد علی شاہ نے عوامی تحفظ کے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے تمام اداروں کوبر وقت چوکنا اور تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت نے تاجر برادری کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور اب بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ اس المناک واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انہیں دلی دکھ ہے۔
Back