وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت 5 بڑی شاہراہوں میں توسیع پر اجلاس
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت 5 بڑی شاہراہوں میں توسیع پر اجلاس
Posted on: 25 Jul 2025 Tags:کراچی (24 جولائی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ایک اجلاس میں پانچ بڑی شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی پیش رفت اور مالی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا۔ یہ منصوبے مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کی سفارش پر قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کی منظوری کے لیے پیش کیے جانے ہیں۔
یہ اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، وزیر تعمیرات علی حسن زرداری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری تعمیرات نواز سوہو اور اسپیشل سیکریٹری خزانہ اصغر میمن نے شرکت کی۔
چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ اور سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز نواز سوہو نے وزیر اعلیٰ کو منصوبوں کی نظرِ ثانی شدہ لاگت، دائرہ کار اور فنڈنگ میکانزم پر بریفنگ دی۔
منصوبوں میں سندھ کوسٹل ہائی وے فیز ٹو، بین الاضلاعی اہم سڑکوں کی دو رویہ توسیع و بہتری، اور مہران ہائی وے پر اضافی کیریج وے کی تعمیر شامل ہیں۔
سندھ کوسٹل ہائی وے فیز ٹو
اس منصوبے کے تحت 36 کلومیٹر طویل سڑک کی توسیع/تعمیر کی جائے گی۔ اس کی لاگت کو 26.9 ارب روپے سے بڑھا کر 37.718 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ وفاقی حکومت منصوبے کی اصل لاگت کے ساتھ اضافی لاگت کا 50 فیصد یعنی مجموعی طور پر 26.961 ارب روپے برداشت کرے جبکہ باقی 10.756 ارب روپے سندھ حکومت اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) سے فراہم کرے گی۔
ٹنڈو الہ یار تا ٹنڈو آدم روڈ
ٹنڈو الہ یار سے ٹنڈو آدم تک سڑک کو دو رویہ بنانے کا منصوبہ 31.4 کلومیٹر طویل ہے۔ اس کی نظرثانی شدہ لاگت 9.284 ارب روپے ہے۔ لاگت کی تقسیم کے تحت وفاقی حکومت 6.687 ارب روپے فراہم کرے گی جبکہ سندھ حکومت 2.597 ارب روپے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت دے گی۔
مہران ہائی وے
نوابشاہ سے رانی پور تک مہران ہائی وے کو دو رویہ بنانے کا منصوبہ 135 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس کی نظرثانی شدہ لاگت 41.034 ارب روپے ہے۔ وفاق اور صوبے کے درمیان لاگت کی تقسیم طے پا گئی ہے۔ منصوبے کی اصل لاگت 21.926 ارب روپے وفاقی حکومت برداشت کرے گی جبکہ اضافی 19.108 ارب روپے کی رقم وفاق اور سندھ حکومت برابر ادا کریں گے۔
سانگھڑ تا روہڑی
سانگھڑ سے نیشنل ہائی وے این 5 پر روہڑی تک (مدھ جمڑاؤ اور صالح پٹ کے راستے) سڑک کی بہتری کا منصوبہ 221 کلومیٹر طویل ہے۔ اس منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت تاحال تخمینہ کے مرحلے میں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات کو ہدایت دی کہ وہ اس کی معقول لاگت کا تعین کرکے وفاق کو بھیجیں۔
روہڑی تا گڈو بیراج روڈ
روہڑی سے گڈو بیراج تک موٹر وے (ایم 5) کے راستے خانپور مہر، میرپور ماتھیلو اور مرید شاخ سے گزرنے والی سڑک کی بہتری کا منصوبہ 150 کلومیٹر طویل ہے۔ اس کی نظرثانی شدہ لاگت 17.791 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ وفاقی حکومت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت 7.822 ارب روپے فراہم کرے گی جبکہ باقی 10.148 ارب روپے سندھ حکومت برداشت کرے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ان اہم اسٹریٹجک منصوبوں کی شفاف اور بروقت تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑکیں نہ صرف اضلاع کے درمیان روابط کو بہتر بنائیں گی بلکہ ساحلی پٹی اور صنعتی زونز میں علاقائی معاشی ترقی کا ذریعہ بھی بنیں گی۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ جن منصوبوں کی لاگت ابھی معقول سطح پر نہیں لائی گئی، ان کا عمل جلد مکمل کیا جائے اور خریداری قوانین اور معیار پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
یہ تمام منصوبے سندھ کے وسیع تر ترقیاتی وژن کا حصہ ہیں جو علاقائی ہم آہنگی اور قومی معاشی ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
Back