وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت عالمی بنک کی کنٹری ڈائریکٹر کے ہمرا وفد کا اجلاس

وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت عالمی بنک کی کنٹری ڈائریکٹر کے ہمرا وفد کا اجلاس

Posted on: 03 Oct 2025   Tags:

کراچی (2 اکتوبر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر مس بولورما امگاابازر کی قیادت میں آنے والے وفد کے ساتھ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں مجوزہ سندھ ٹرانسفارمیشنل ایکسیلیریٹڈ رورل واٹر سپلائی، سینیٹیشن اینڈ ہائیجین سروسز (اسٹارز۔واش) منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد دیہی علاقوں میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کے مسائل حل کرنا اور صوبے بھر میں بچوں کی نشونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کو کم کرنا ہے۔

یہ اجلاس وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ اور سی ای او پیپلز ہاؤسنگ پروجیکٹ خالد شیخ شریک ہوئے۔ عالمی بینک کے وفد میں لیڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ اسپیشلسٹ مسٹر بیکیلے ڈیبیلے نگیوو، پریکٹس مینیجر مسٹر مائیکل ہینی، سینئر واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن اسپیشلسٹ مسٹر محمد فرحان اللہ سمیع، سینئر ایگزیکٹو اسسٹنٹ مسٹر ولید انور، سینئر سوشل ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ مسٹر کامران اکبر اور آپریشن آفیسر مس حنا سلیم لوٹیا (ویڈیو لنک کے ذریعے) شامل تھے۔

عالمی بینک کے وفد نے ایک ماہ کی مشن سرگرمیوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ اور عالمی بینک کے وفد نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ واٹر، سینیٹیشن اور ہائیجین (واش) خدمات تک رسائی بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں کمی سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے اور اس کے لیے روایتی اثاثہ جاتی اقدامات کے بجائے پائیدار سروس ڈلیوری ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے 90 فیصد سے زیادہ دیہی گھرانے پینے کے پانی کی فراہمی خود کرتے ہیں جو اکثر آلودہ زیر زمین پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ماضی کے بیشتر واش منصوبے صرف اثاثہ جات کی تعمیر تک محدود رہے جو بعد میں مقامی حکومتوں یا برادریوں کے حوالے کر دیے گئے لیکن ان میں مناسب آپریشن اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) کا فقدان رہا۔

مجوزہ اسٹارزواش فریم ورک میں ایک جامع واش پالیسی اور حکمتِ عملی تجویز کی گئی ہے جس میں واضح سروس معیارات، ڈلیوری ماڈل اور او اینڈ ایم کے لیے مالی وسائل شامل ہوں گے۔

اس منصوبے میں مرحلہ وار سرمایہ کاری کی تجویز ہے جس میں پہلے مرحلے (فیز ون) میں 20 لاکھ سے زیادہ افراد کو سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی دیہی آبادی تک خدمات پہنچائی جائیں گی۔ منصوبے کو سندھ پیپلز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے واش پروگرام کے ساتھ ضم کر کے محفوظ پانی اور صفائی کی مربوط فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

منصوبے کے روڈ میپ کے مطابق مختلف دیہات کے سائز کے لحاظ سے علیحدہ ماڈل اپنائے جائیں گے

بڑے دیہات (300 سے زیادہ گھرانے)

پائپ کے ذریعے پانی کی ترسیل، اوور ہیڈ ٹینکس، غیر مرکزی گندے پانی کے نظام اور او اینڈ ایم کی ذمہ داری پیشہ ور یوٹیلیٹی کمپنیوں یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوگی۔

درمیانے دیہات (150 گھرانے)

صاف پانی کے لیے ہینڈ پمپ یا اسٹینڈ پوسٹ، انجینئرڈ سیپٹک سسٹمز اور کمیونٹی ڈریون ڈویلپمنٹ ماڈل اپنائے جائیں گے، ساتھ ہی بڑے مسائل کے حل کے لیے پیشہ ورانہ مدد دستیاب ہوگی۔

چھوٹے دیہات (150 سے کم گھرانے)

کمیونٹی کی قیادت میں ڈیزائن اور او اینڈ ایم ہوگا، جس کے لیے ہلکی نوعیت کی تکنیکی مدد فراہم کی جائے گی۔

اصلاحات میں سندھ رورل واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن ایکٹ کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے تحت ایک نیم ریگولیٹری ادارہ بنایا جائے گا جو نگرانی کرے گا اور مالی وسائل صوبائی منتقلیوں کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔

عالمی بینک کے وفد نے زور دیا کہ پانی، صفائی، صحت اور غذائیت کی حکمتِ عملیوں کو ایک ساتھ منسلک کرنا اسٹنٹنگ کے مسئلے پر قابو پانے اور طویل مدتی نتائج کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ اور عالمی بینک کے وفد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ مشن، جو نومبر 2025 میں طے ہے، میں مزید مذاکرات کر کے منصوبے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

Back