وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت میڈیکل کمپلیکس اور انجنیئرنگ کالج پر پیشرفت کا جائزہ اجلاس
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت میڈیکل کمپلیکس اور انجنیئرنگ کالج پر پیشرفت کا جائزہ اجلاس
Posted on: 02 Nov 2025 Tags:کراچی (23 اکتوبر): وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے دو اہم ترقیاتی منصوبوں — شہید ذوالفقار علی بھٹو انجینئرنگ کالج، گڈاپ کے قریب میڈیکل کمپلیکس کے قیام اور خود شہید ذوالفقار علی بھٹو انجینئرنگ کالج کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ اجلاس وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سید سردار شاہ، جام خان شورو، حاجی علی حسن زرداری اور اسماعیل راہو کے علاوہ چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نجم احمد شاہ، وزیرِ اعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ، سیکریٹری ورکس نواز سوہو اور سیکریٹری کالجز ندیم میمن شریک تھے۔
گڈاپ کے قریب میڈیکل کمپلیکس
وزیرِ اعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ نیشنل ہائی وے پر رزاق آباد کے قریب قائم کیا جانے والا میڈیکل کمپلیکس گڈاپ، ملیر، پورے کراچی شہر اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ایک جدید طبی اور تدریسی سہولت فراہم کرے گا۔
یہ منصوبہ 2012 میں 1.43 ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا، تاہم اپریل 2025 میں منصوبے کی لاگت میں نظرِ ثانی کے بعد صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی) کے فورم سے 4.64 ارب روپے کی لاگت سے دوبارہ منظوری دی گئی۔
منصوبے میں نو مرکزی اسپتال بلاکس شامل ہیں جن میں 290 بستر کی گنجائش ہوگی، جن میں جنرل وارڈز 200 بستر، برن آئی سی یو 10 بستر، میڈیکل/سرجیکل آئی سی یو 20 بستر، سی سی یو10 بستر، ڈائیلاسس وارڈ 10 بستر، تھیلیسیمیا سینٹر10 کرسیاں اور ایمرجنسی یونٹ 30 بستر پر مشتمل ہوگا۔
مین بلڈنگ کی گراؤنڈ اور پہلی منزل کا فنشنگ کام جاری ہے جبکہ کچن بلاک اور رہائشی عمارتیں تکمیل کے قریب ہیں۔ کمپاؤنڈ وال اور زیرِ زمین پانی کا ٹینک مکمل ہوچکے ہیں اور اندرونی سوئی گیس کی تنصیب کا کام جاری ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ ماضی میں 2013 سے 2015 کے دوران قانونی تنازعات، لاگت میں اضافے اور تکنیکی تبدیلیوں کے باعث تاخیر کا شکار رہا۔ تاہم بین المحکماتی ہم آہنگی اور اپریل 2025 میں نظرِ ثانی شدہ پی سی ون کی منظوری کے بعد اب منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور سول ورکس تیزی سے جاری ہیں۔
مراد علی شاہ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ موجودہ مالی سال میں مختص فنڈز کا مکمل استعمال یقینی بنایا جائے اور منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور محکمہ صحت کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپلیکس نہ صرف کراچی کے نواحی علاقوں کے شہریوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرے گا بلکہ صوبائی سطح پر ایک اہم تدریسی اور تحقیقی مرکز کے طور پر بھی کام کرے گا۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو انجینئرنگ کالج، گڈاپ
وزیرِ اعلیٰ نے گڈاپ ٹاؤن میں قائم شہید ذوالفقار علی بھٹو انجینئرنگ کالج کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جو 50 ایکڑ رقبے پر 1.55 ارب روپے کی منظور شدہ لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ 2013 میں منظور ہوا تھا اور زمین سے متعلق مسائل کے حل کے بعد مئی 2015 میں تعمیراتی کام کا آغاز کیا گیا۔ اب تک اس پر 729.96 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
کالج کمپلیکس میں غیر رہائشی بلاک یعنی انتظامی عمارت کے علاوہ ایک تدریسی بلاک شامل ہے جس میں سول، الیکٹریکل، اور کمپیوٹر و سافٹ ویئر انجینئرنگ کے شعبے، ایک آڈیٹوریم اور ایک لائبریری موجود ہیں۔ رہائشی بلاکس میں ہوسٹلز، عملے کے کوارٹرز اور بنگلے شامل ہیں۔ مشترکہ سہولیات میں ایک ڈسپنسری، مسجد، کینٹین، منی مارکیٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن سینٹر شامل ہیں۔
انجینئرنگ کالج میں کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے جمنازیم، اسکواش، بیڈ منٹن اور ٹینس کورٹ، کرکٹ و ہاکی کے گراؤنڈز اور جاگنگ ٹریکس کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
انتظامی اور تدریسی بلاکس تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جبکہ رہائشی یونٹس بھی تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔ تاہم مشترکہ اور غیر نصابی سہولیات پر ابھی کام شروع نہیں ہو سکا کیونکہ فنڈز کی فراہمی ناکافی اور غیر مستقل ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ مالیات کو ہدایت دی کہ اسکیم پر نظرِ ثانی کر کے بروقت اور مستقل فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ منصوبے کی تکمیل میں تیزی لائی جا سکے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ دونوں منصوبے میڈیکل کمپلیکس اور انجینئرنگ کالج صوبائی حکومت کے اُس جامع وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد کراچی کے مضافاتی اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف عمارتیں نہیں بلکہ سندھ کے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کے لیے پرعزم ہیں تاکہ نوجوانوں اور شہریوں کو معیاری تعلیم، تحقیق اور طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
Back