وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت صوبائی پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت صوبائی پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس
Posted on: 18 Feb 2026 Tags:کراچی (30 جنوری): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی پولیو ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تازہ ترین اعداد و شمار اور مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا، 2 فروری سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے اہداف مقرر کیے اور صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں موجودہ وبائی صورتحال، مہم کی کارکردگی اور 2 سے 8 فروری 2026 تک شیڈول قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے دنوں (نیشنل امیونائزیشن ڈیز) کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مہم کے دوران مجموعی طور پر ایک کروڑ پانچ لاکھ افراد کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، جن میں 5 سال سے کم عمر 89 لاکھ بچے شامل ہیں۔ مہم 30 اضلاع کی 1,490 یونین کونسلوں میں چلائی جائے گی، جس کے لیے 80 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز تعینات ہوں گے، جن کی سکیورٹی کے لیے 21 ہزار سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکار خدمات انجام دیں گے، جن میں ایک ہزار سے زائد خواتین پولیس کانسٹیبلز شامل ہیں۔
سی ایم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، کمشنر حسن نقوی، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ وسیم شمشاد، سیکریٹری تعلیم زاہد عباسی، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی آزاد خان، سیکریٹری صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسر پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) ڈاکٹر جاوید جاگیرانی، کوآرڈینیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) شہریار میمن، ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر وقار، کراچی ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور روٹری انٹرنیشنل، عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دیگر ڈویژنز کے کمشنرز، ڈپٹی انسپکٹر جنرلز، ڈپٹی کمشنرز اور سینیئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پولیو کے خاتمے کو قومی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری قومی ذمہ داری ہے اور سندھ حکومت اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
اہم اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 2024 میں پولیو کے 74 کیسز رپورٹ ہوئے، 2025 میں 31 کیسز سامنے آئے جبکہ 2026 میں اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ سندھ میں 2024 میں 23 کیسز، 2025 میں 9 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2026 میں اب تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پولیو قابو میں ہے لیکن وائرس اب بھی موجود ہے اور غفلت ان کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبادی کی نقل و حرکت پولیو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے تاہم بچوں کی ویکسی نیشن کے ذریعے مضبوط قوت مدافعت پیدا کرنا سب سے مؤثر دفاع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف مسلسل ویکسی نیشن کے ذریعے بچوں میں مضبوط قوت مدافعت پیدا کر کے وائرس کو شکست دے سکتے ہیں۔
ای او سی کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے ماحولیاتی نگرانی سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی اور بتایا کہ سندھ کے تمام ڈویژنز میں نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ 29 ماحولیاتی نگرانی کے مقامات میں سے 11 کے نتائج مثبت، 5 کے منفی آئے جبکہ 13 کے نتائج کا انتظار ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے بھر میں وائرس کی موجودگی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ پولیو وائرس سندھ کے کئی حصوں میں موجود ہے۔ انہوں نے والدین کو ہدایت کی کہ ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔
2سے 8 فروری 2026 تک جاری رہنے والی آئندہ پولیو مہم کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے ضلعی انتظامیہ کو سخت ہدایات دیں کہ مہم کے دوران کوئی بچہ رہ نہ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز یونین کونسل کی سطح پر مانیٹرز مقرر کریں تاکہ مکمل کوریج یقینی بنائی جا سکے۔
میڈیا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ اس سے قبل میڈیا اداروں کو دو خطوط لکھ چکے ہیں اور جلد ایک اور خط بھی ارسال کریں گے۔ انہوں نے اپیل کی کہ میڈیا ہاؤسز ہر خبرنامے کا آغاز پولیو سے متعلق آگاہی کے چند الفاظ سے کریں کیونکہ اس قومی کوشش کی کامیابی میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔
مراد علی شاہ نے زور دیا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے والدین، معاشرے، میڈیا اور حکومت کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو اپنے بچوں کو معذوری سے بچا سکتے ہیں اور پاکستان کے لیے ایک صحت مند مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔
اجلاس میں اس اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ بہتر مہماتی حکمتِ عملی، مؤثر نگرانی اور مضبوط کمیونٹی شمولیت کے ذریعے سندھ پولیو فری بننے کی درست سمت میں گامزن ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ مہم سے قبل معیار کو بہتر بنانے کے لیے تربیت اور مائیکرو پلاننگ کو وسعت دی جائے، زیادہ ہچکچاہٹ اور انکار والے علاقوں میں کمیونٹی انگیجمنٹ کو تیز کیا جائے اور 22 اضلاع (کراچی کے سوا) میں مہم کے شیڈول کو تین دن کی مہم اور ایک فالو اپ دن کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ ان کی ہدایات پر مائیکرو پلان کی تیاری کی سرگرمیاں، جن میں دو روزہ واک تھرو ایکسرسائز بھی شامل ہے، معیار میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (پی ای او سی) نے 15 اضلاع میں مہم سے قبل دوروں کے ذریعے تکنیکی معاونت فراہم کی۔ تربیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے معلومات، تعلیم اور آگاہی (انفارمیشن، ایجوکیشن اینڈ کمیونیکیشن) سے متعلق تربیتی مواد اور ویڈیوز تقسیم کی گئیں جبکہ حقیقی وقت میں خامیوں کی نشاندہی اور درستگی کے لیے نالج اسیسمنٹ ڈیش بورڈ متعارف کرایا گیا۔ سپورٹ سینٹرز اور تربیتی مقامات کی بحالی بھی کی گئی۔
یہ فیصلہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل، سوشل اور ماس میڈیا پر مشتمل مربوط آگاہی حکمتِ عملی نافذ کی جائے گی۔ مہم کے دوران توجہ صرف مہماتی دنوں میں ویکسینیشن پر مرکوز رکھی جائے گی اور کیچ اَپ میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ ہچکچاہٹ سے نمٹنے کے لیے سنگل ناک اسٹریٹیجی اپنائی جائے گی، ڈیٹا رپورٹنگ کو سادہ بنایا جائے گا اور ضلعی ڈیٹا پیکس اور ترجیحی خطوط استعمال کیے جائیں گے۔ ذمہ داری اور تسلسل یقینی بنانے کے لیے “ایک مانیٹر، ایک یونین کونسل” کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ حکمتِ عملی کو معاون نگرانی، فیڈبیک اور جوابدہی کی جانب منتقل کیا گیا ہے، ابتدائی ای آر ایمز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور اضلاع میں ای آر ایم ٹیمپلیٹس کو معیاری بنایا جائے گا۔
کمیونٹی آگاہی کو اعلانات اور فیلڈ سرگرمیوں کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے گا۔ صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (پی ای او سی) کی کور ٹیم نے مہم کے بعد جائزے اور معاونت کے لیے ضلعی ایمرجنسی آپریشنز سینٹرز (ڈی ای او سیز) کا دورہ کیا۔ کراچی ایکشن پلان (کے اے پی) کے تحت ضلعی ترجیحات کو حتمی شکل دینے کے لیے کثیر فریقی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ کراچی بلاک میں رہ جانے والے بچوں کی پروفائلنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ یونین کونسل سطح پر ازسرنو منصوبہ بندی کے لیے علاقہ وار چیلنج میپنگ بھی کی جا رہی ہے۔ مشترکہ ای پی آئی اور پی ای آئی کے فالو اپ اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں جن کا ہدف زیرو ڈوز بچوں تک رسائی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پولیو کے خاتمے میں معاونت پر عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، روٹری انٹرنیشنل اور بل گیٹس فاؤنڈیشن سمیت شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔