وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ 2 نئے پولیو کیسز سامنے آنے پر برہم

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ 2 نئے پولیو کیسز سامنے آنے پر برہم

Posted on: 03 Oct 2025   Tags:

کراچی (30 ستمبر) سندھ کے وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں دو مزید پولیو کیسز سامنے آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بدین اور کیماڑی کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو معطل کردیا، بدین اور ٹھٹہ کے ڈپٹی کمشنرز کو شوکاز نوٹس جاری کیے اور ماتلی اور میرپور ساکرو کے اسسٹنٹ کمشنرز کو عہدوں سے ہٹا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو ایک معذور کر دینے والی بیماری ہے اور اس کا خاتمہ ہمارا قومی فریضہ ہے جسے ہر ایک کو ایمانداری سے انجام دینا ہوگا۔ غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے یہ بات منگل کو وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں پولیو کے خاتمے سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیرِاعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری رحیم شیخ، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر ارشاد سوڈھڑ اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حیدرآباد، بدین اور ٹھٹہ سے سامنے آنے والے تمام نئے کیسزحیدرآباد ڈویژن کے اندر ہیں۔ وزیرِصحت نے کہا کہ حالیہ ویکسینیشن مہم میں 98 فیصد سے زائد کوریج کے باوجود وائرس کمزور بچوں کو تلاش کرکے مفلوج کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک پولیو کے 9 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں بدین کے 3، ٹھٹہ کے 2 اور حیدرآباد، لاڑکانہ، قمبر اور عمرکوٹ کے ایک ایک کیس شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بدین کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر انجم علی سومرو اور کیماڑی کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر ولی محمد راہموں کو معطل کرنے، بدین اور ٹھٹہ کے ڈپٹی کمشنرز کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ماتلی و میرپور ساکرو کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ناقص کارکردگی پر عہدوں سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے۔ ان احکامات کی توثیق چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہماری مہمات اکثریت تک پہنچ رہی ہیں لیکن پولیو کا خاتمہ ہر آخری بچے کے تحفظ کے بغیر ممکن نہیں۔ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ وائرس انتہائی موقع پرست ہے اور معمولی خلا سے فائدہ اٹھا لیتا ہے اس لیے حکمتِ عملی اب اس بات پر مرکوز ہوگی کہ رہ جانے والے بچوں کو لازماً تلاش کرکے ویکسین دی جائے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت سندھ اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر کو ہدایت دی کہ ستمبر میں سامنے آنے والے تین نئے کیسز کے بعد پولیو کے خاتمے کی ایک نئی اور جارحانہ مہم شروع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2024 کے مقابلے میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی دیکھی ہے لیکن صوبے میں اب بھی ایسے چیلنجز موجود ہیں جو وائرس کو گردش میں رکھے ہوئے ہیں۔

ستمبر کی مہم میں تقریباً 4,500 بچوں نے ویکسین لگوانے سے انکار کیا، جس سے کوریج میں ایک سنگین خلا پیدا ہوگیا۔

یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ کے 81 فیصد ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے جبکہ کراچی کے تمام 12 مقامات پر مسلسل مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ حالیہ کیسز بدین اور عمرکوٹ میں سامنے آئے جو عموماً خانہ بدوش اور ہجرت کرنے والی آبادیوں سے جڑے ہیں جن تک جامد صحت خدمات کے ذریعے پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ وہ 2025 کی آخری سہ ماہی کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اکتوبر اور دسمبر میں دو بڑے پیمانے کی مہمات چلائی جائیں جنہیں کراچی میں فریکشنل ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین مہم (ایف۔آئی۔پی۔وی) اور نومبر میں خسرہ اور پولیو کی مشترکہ مہم سے سپورٹ کیا جائے۔

مراد علی شاہ نے فوری طور پر ان علاقوں میں، جہاں حالیہ کیسز سامنے آئے ہیں، او پی وی (اورل پولیو ویکسین) کے ساتھ ساتھ آئی پی وی (ان ایکٹیویٹڈ پولیو ویکسین) بوسٹرز کے ذریعے خصوصی ویکسینیشن مہم شروع کرنے کی ہدایت دی جو رپورٹ کے مطابق جاری ہے۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ستمبر کی مہم میں رہ جانے والے بچوں کو تلاش کرکے ویکسین پلانے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ آئندہ مہمات سے قبل کی تیاریوں میں کمیونٹی رہنماؤں اور طبی ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ والدین کے خدشات دور کیے جائیں اور انکار کرنے والوں کی تعداد کم کی جاسکے۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ پولیو سے پاک سندھ کا راستہ واضح ہے۔ ہمارے پاس منصوبہ، وسائل اور عزم موجود ہیں۔ اب ہم اعلیٰ سطحی ٹیمیں سب سے زیادہ خطرے والے اضلاع میں بھیج رہے ہیں تاکہ ہماری کوششیں ہر گھر اور ہر بچے تک پہنچ سکیں۔ اس آخری مرحلے کی کامیابی کے لیے ہر کمیونٹی رہنما اور والدین کی حمایت لازمی ہے۔

Back