وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ چینی وفود کے ساتھ اہم اجلاس

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ چینی وفود کے ساتھ اہم اجلاس

Posted on: 17 Dec 2025   Tags:
 
کراچی (26 نومبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چائنا–افریقہ اینڈ ایشیا اکنامک ٹریڈ کوآپریشن کے وفد اور لوویانگ ماڈرن بائیولوجی کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی جس میں بائیوٹیکنالوجی، زرعی جدت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں وسیع دوطرفہ اور سہ فریقی تعاون کی تجاویز پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سندھ کو ’’ترقی کے لیے تیار صوبہ‘‘ بتاتے ہوئے اس کی 1 کروڑ 40 لاکھ ایکڑ زرخیز زمین اور پھیلتے ہوئے صنعتی زونز کو صوبے کی بڑی صلاحیت قرار دیا۔
اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن، صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، صوبائی وزیر ماہی پروری و لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری فشریز و لائیو اسٹاک کاظم جتوئی سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ چینی وفد کی قیادت ہو یوی جاؤ کر رہے تھے جبکہ لوویانگ ماڈرن بائیولوجی کے اعلیٰ حکام وانگ شانپو، وانگ چوانگئے، بائی شیو، یاو شن لی اور ژانگ شِنگ وے بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے پاکستان اور چین کی گہری دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا۔
*ترقی کے لیے تیار صوبہ*
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کے صنعتی جدیدیت، بائیوٹیکنالوجی کی ترقی اور زرعی ویلیو چین کے فروغ کے وژن کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا، کہ سندھ آج ایک ترقی کے لیے تیار صوبہ ہے جس کی پشت پر مضبوط ادارے، سازگار پالیسیاں اور بڑی انفراسٹرکچر پیش رفت موجود ہے۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو بائیوٹیکنالوجی، دواسازی، اسمارٹ زراعت اور لائیو اسٹاک میں جدت کے شعبوں میں اعلیٰ قدر کی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
*بائیوٹیکنالوجی اور زرعی تعاون*
اجلاس میں مختلف ممکنہ شعبوں میں تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جن میں کراچی یا حیدرآباد میں بائیوٹیکنالوجی تحقیق و ترقی کی لیبارٹریوں کا قیام، میڈیسنل پلانٹس، نامیاتی کھاد، بائیو ایگریکلچر اور ویٹرنری ہیلتھ میں مشترکہ منصوبے، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ، زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی ٹیکنالوجی کی منتقلی، اسمارٹ فارمنگ سسٹمز اور جدید بیج تحقیق مراکز کا قیام اور سندھ بھر میں بائیو فرٹیلائزر پیدا کرنے والی یونٹس کا قیام شامل تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کی 1 کروڑ 40 لاکھ ایکڑ زرخیز زرعی زمین اور بڑھتے صنعتی زون بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔
*تجارتی شراکت داری اور انویسٹمنٹ فورم کی تجویز*
چائنا–افریقہ اینڈ ایشیا اکنامک ٹریڈ پروموشن تنظیم کو سندھ کی ٹیکسٹائل، چمڑے، سی فوڈ، چاول اور زرعی مصنوعات کی برآمدات کے لیے روابط بڑھانے کی تجویز دی گئی۔
اس کے علاوہ سندھ کے کاروباری افراد کو افریقہ اور چین کی منڈیوں سے جوڑنے اور کراچی میں سہ فریقی سندھ–چین–افریقہ انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد کی سفارش بھی کی گئی۔
*خصوصی اقتصادی زون*
وزیراعلیٰ نے سرمایہ کاری کے لیے تیار صنعتی زونز کا ذکر کرتے ہوئے وفد کو دھابیجی اسپیشل اکنامک زون، خیرپور ایس ای زیڈ اور نوری آباد صنعتی علاقے کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ سندھ کی نئی ون ونڈو انویسٹمنٹ ڈیسک کے تحت سرمایہ کاروں کو تیز رفتار سہولت، زمین کی فراہمی، ریگولیٹری منظوریوں اور وفاقی و صوبائی ایس ای زیڈ قوانین کے تحت دستیاب مراعات فراہم کی جائیں گی۔
*لائیو اسٹاک اور ماہی پروری کا تعاون*
اجلاس کے بڑے حصے میں لائیو اسٹاک بائیوٹیکنالوجی، ویکسین کی تیاری، بیماریوں کی تشخیص اور ٹریس ایبلیٹی سسٹمز پر بات چیت ہوئی۔ وفد کو بتایا گیا کہ پاکستان کا لائیو اسٹاک شعبہ قومی جی ڈی پی میں 14.97 فیصد حصہ رکھتا ہے، 237 ملین لائیو اسٹاک ہیڈز موجود ہیں اور72 ملین ٹن دودھ حاصل کیا جاتا ہے جن میں سندھ کا حصہ 23-27 فیصد ہے۔
تعاون کے لیے جن شعبوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت لائیو اسٹاک ٹیگنگ اور ٹریس ایبلیٹی سسٹمز، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے ذریعے ویکسین کی پیداوار اور بلک پیکیجنگ، بیماریوں کی تشخیص کے جدید نظام، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور سندھ لائیو اسٹاک رجسٹریشن اینڈ ٹریڈنگ اتھارٹی کی فعالی شامل ہیں۔
یہ بھی طے پایا کہ سندھ صوبائی وزیر لائیو اسٹاک و ماہی پروری محمد علی ملکانی کی سربراہی میں ایک ٹاسک گروپ تشکیل دے گا، جو پاکستان اور چین کے درمیان لائیو اسٹاک تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔
وزیراعلیٰ اور چینی وفد نے لوویانگ ماڈرن بائیولوجی اور سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کے ساتھ ایم او یوز اور مشترکہ منصوبوں (جے وی) پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا۔
مزید یہ بھی طے پایا کہ ویکسین مینوفیکچرنگ شراکت داری سے متعلق آپریشنل، لاجسٹک اور مالی امور حل کیے جائیں گے، لائیو اسٹاک ٹیگنگ اور ٹریس ایبلیٹی کے لیے مرحلہ سوم کی سرمایہ کار مشاورت شروع کی جائے گی اور عمل درآمد کے قابل منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لیے آئندہ ہفتے فالو اپ ورکنگ گروپ اجلاس منعقد ہوگا۔
Back