وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ اجلاس، اہم فیصلے
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ اجلاس، اہم فیصلے
Posted on: 19 Dec 2025 Tags:عوامی ٹرانسپورٹ بسوں کی خریداری اور آپریشن کے لیے 96 کروڑ 44 لاکھ روپے منظور
عوامی آگاہی کے لیے فلموں، ڈراموں اور دستاویزی پروگراموں کی تیاری کے لیے ایک ارب روپے کی منطوری
سندھ پولیس کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود کی خریداری کے لیے 5 ارب 84 کروڑ روپے منظور
فلور ملز کو گندم اجرا کے نرخ میں 1500 روپے فی 100 کلوگرام کی کمی کردی گئی
جیلوں میں وائرلیس سسٹم کی تنصیب اور آئی ٹی ٹاور کےلیے تاریخی عمارت خریدنے کی مںظوری
فنڈز کے بروقت استعمال کو یقینی بنایا جائے، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت
کراچی (16 دسمبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں عوامی ٹرانسپورٹ، پولیسنگ، گندم کی قیمت میں ریلیف، تھر کوئلہ رابطہ منصوبوں، داخلی آڈٹ اصلاحات، سماجی تحفظ اور شہر میں آئی ٹی ٹاور کے قیام سمیت ایک جامع مالی اور ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی گئی۔
یہ اجلاس منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا جس میں صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ کابینہ نے بلدیات کے وزیر سید ناصر حسین شاہ کی جانب سے پیش کردہ کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کے منٹس کی بھی توثیق کی۔
اہم منظوریوں میں، کابینہ نے نان اے ڈی پی اسکیم کے تحت عوامی ٹرانسپورٹ بسوں کی خریداری اور آپریشن کے لیے 96 کروڑ 44 لاکھ روپے، عوامی آگاہی کے لیے فلموں، ڈراموں اور دستاویزی پروگراموں کی تیاری کے لیے ایک ارب روپے، جبکہ سندھ پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود کی خریداری کے لیے 5 ارب 84 کروڑ روپے کی منظوری دی۔
کابینہ نے کھیلوں کے مختلف ایونٹس کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دی جن میں آئی ایم سی اوور فورٹیز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے معاونت، تھرپارکر میں ایس او ایس چلڈرنز ولیج کے لیے گرانٹس، سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے تحت پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ کا قیام، نئے قائم شدہ کالجوں میں اسامیوں کی تخلیق، سندھ جیل خانہ جات کے لیے گاڑیوں کی خریداری اور ثقافتی سرگرمیوں کی معاونت جن میں دسویں ادب فیسٹیول کا انعقاد شامل ہے۔
مزید برآں ملیر میں پانی فراہمی کی ہنگامی اسکیموں، کورنگی کاز وے پر اضافی ریمپ کی تعمیر، صدر میں واقع ایک سرکاری گرلز اسکول کی تزئین و آرائش اور سندھ اسمبلی میں دوسری جوائنٹ دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن ایشیا اور دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن جنوب مشرقی ایشیا ریجنل کانفرنس کے انعقاد کے لیے فنڈز کی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ فنڈز کے بروقت استعمال کو یقینی بنایا جائے اور شفافیت اور مالی نظم و ضبط کی سختی سے پابندی کی جائے۔
گندم کے اجرا کی قیمت میں نظرثانی
سندھ کابینہ نے گندم کے اجرا کی پالیسی برائے 2025-26 میں نظرثانی کی منظوری دی جس کے تحت سرکاری گندم فوری طور پر فلور ملوں، چکیوں اور تاجروں کو 8 ہزار روپے فی 100 کلوگرام بوری کے اجرا نرخ پر فراہم کی جائے گی جو اس سے قبل 9 ہزار 500 روپے فی 100 کلوگرام تھی۔
اس فیصلے کا مقصد مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بروقت اجرا سے گندم کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، ذخیرہ کرنے کی جگہ خالی ہوگی اور عوام کے لیے آٹے کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے میں معاونت ملے گی۔ گندم کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ضرورت پڑنے پر سرکاری گندم کے اجرا نرخ میں مزید ردوبدل کی سفارش کابینہ کو پیش کرے گی۔
داخلی آڈٹ کا ضابطہ جاتی فریم ورک
سندھ کابینہ نے سندھ پبلک فنانس ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2020 کے تحت داخلی آڈٹ کے ضابطہ جاتی فریم ورک کی منظوری دی جس کا مقصد سرکاری محکموں میں مالی نظم و ضبط، شفافیت اور حکمرانی کو مضبوط بنانا ہے۔ کابینہ نے محکمہ خزانہ میں چیف انٹرنل آڈٹ آفیسرز کے کیڈر کے قیام اور تمام انتظامی محکموں کے سیکریٹریٹ سائیڈ پر 45 چیف انٹرنل آڈٹ آفیسرز کی اسامیوں کی منظوری بھی دی جو کنٹریکٹ یا مارکیٹ بیسڈ معاوضے پر ہوں گی اور محکمہ خزانہ کے زیر انتظام ہوں گی۔
پی پی پی منصوبوں پر سیلز ٹیکس استثنا
کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے لیے سندھ سیلز ٹیکس استثنا کے معاملے پر غور کیا کیونکہ 30 جون 2025 کو عمومی استثنا کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ استثنا کے خاتمے سے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدوں میں ’’قانون میں تبدیلی‘‘ کی شقوں کے باعث سندھ حکومت کی مالی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ انفرااسٹرکچر اور عوامی خدمات کی فراہمی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2030 تک تمام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے لیے بلا امتیاز سیلز ٹیکس استثنا نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیلز ٹیکس استثنا ہر منصوبے کی بنیاد پر علیحدہ علیحدہ غور کے بعد دیا جا سکتا ہے۔ معاملہ کابینہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھیج دیا گیا جو مالی اثرات کا جائزہ لے کر آئندہ کابینہ اجلاس میں سفارشات پیش کرے گی۔
تھر ریلوے منصوبے کے لیے فنڈز
سندھ کابینہ نے اسلام کوٹ تا چھور ریلوے لائن، بن قاسم تا پورٹ قاسم ڈبل ٹریک اور کوئلہ ان لوڈنگ سہولت کے منصوبے کے لیے صوبائی حکومت کے حصے کے طور پر 6 ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جاری کرنے کی منظوری دی۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان وزارتِ ریلوے کے ذریعے پچاس، پچاس فیصد شراکت سے مشترکہ منصوبے کے طور پر جاری ہے۔ کابینہ نے نوٹ کیا کہ اس منصوبے کا مقصد تھر کے کوئلے کی پاکستان بھر میں بجلی گھروں اور صنعتی صارفین تک ترسیل کو آسان بنانا ہے۔ مزید فیصلہ کیا گیا کہ کابینہ کی ایک کمیٹی منصوبے کے مقام کا دورہ کرے گی، پیش رفت کا جائزہ لے گی اور رپورٹ پیش کرے گی۔
ڈی سی پنشن اسکیم کے لیے پنشن فنڈ مینیجرز کا معاہدہ
کابینہ نے سندھ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن اسکیم 2024 کے لیے پنشن فنڈ مینیجرز کے مجوزہ معاہدے کی منظوری دی جو یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد بھرتی ہونے والے تمام ملازمین پر لاگو ہو گا۔ یہ معاہدہ سندھ حکومت کی جانب سے محکمہ خزانہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ کرے گا جو رضاکارانہ پنشن سسٹم رولز 2005 اور سندھ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن اسکیم رولز 2025 کے مطابق ہو گا۔ اس اسکیم کے تحت پنشن فنڈ مینیجرز چار ذیلی فنڈز، منی مارکیٹ، ڈیٹ، ایکویٹی انڈیکس اور ایکویٹی کا انتظام کریں گے۔ اس کے ساتھ قدرتی موت یا معذوری کی صورت میں 10 لاکھ روپے اور حادثاتی موت کی صورت میں 20 لاکھ روپے کی انشورنس کوریج فراہم کی جائے گی جبکہ رقم میں سالانہ 10 فیصد اضافہ بھی شامل ہو گا۔
جیلوں میں وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم
کابینہ نے محکمہ داخلہ (جیل خانہ جات) کی جانب سے سندھ جیلوں کے لیے وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم کی خریداری کی تجویز قومی مفاد اور سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر منظور کر لی۔ کابینہ نے نوٹ کیا کہ خریداری کی تفصیلات کو عوام کے سامنے لانا جیلوں کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی منظوری سے 2025-26 کے لیے اس مد میں 20 کروڑ روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ کابینہ نے اس سسٹم کی خریداری کے لیے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت بھی دے دی۔
آئی ٹی ٹاور کے لیے تاریخی عمارت کی خریداری
سندھ کابینہ نے کراچی کے ایم اے جناح بندر روڈ پر واقع محفوظ شدہ تاریخی عمارت، حبیب انشورنس کمپنی / حبیب بینک لمیٹڈ فارن ایکسچینج بلڈنگ کو سندھ آئی ٹی ٹاور کے قیام کے لیے خریدنے کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا جس میں بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ملکیت کی تصدیق اور مالیت کا تعین (مجموعی قیمت ایک ارب 50 کروڑ روپے) این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے عمارت کی ساختی سلامتی کا سرٹیفیکیٹ اور محکمہ ثقافت کی جانب سے ورثہ قوانین کے مطابق جائزہ شامل تھا۔ کابینہ نے حتمی خریداری قیمت کی منظوری دی اور محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سندھ آئی ٹی کمپنی کو ہدایت کی کہ آئی ٹی ٹاور کے استعمال اور انتظام کے لیے تفصیلی منصوبے تیار کیے جائیں۔ یہ ٹاور ڈیجیٹل جدت، انکیوبیشن، تربیت اور سرکاری آئی ٹی آپریشنز کے مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
سندھ سیف سٹیز اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم
کابینہ نے سندھ سیف سٹیز اتھارٹی ایکٹ 2019 میں ترامیم کی تجاویز منظور کر لیں تاکہ اتھارٹی کی کارکردگی کو بہتر اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔ ان ترامیم میں ’’مینجمنٹ کمیٹی‘‘ کی اصطلاح کو ’’ایگزیکٹو کمیٹی‘‘ سے تبدیل کرنا، ایگزیکٹو کمیٹی کی تشکیل اور اختیارات کی وضاحت، ایکٹ کے دائرہ کار کو پورے سندھ تک توسیع دینا، اور ایگزیکٹو کمیٹی، پروجیکٹ ڈائریکٹر، محکمہ اور حکومت جیسی اصطلاحات کی تعریفوں کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے۔ مجوزہ ایگزیکٹو کمیٹی میں انسپکٹر جنرل پولیس، ڈائریکٹر جنرل سیف سٹیز اتھارٹی، محکمہ خزانہ، محکمہ اطلاعات اور محکمہ داخلہ کے نمائندگان، ڈپٹی کمشنرز، سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، چیف آپریٹنگ آفیسر اور پروجیکٹ ڈائریکٹرز شامل ہوں گے۔ کابینہ نے اس معاملے کو باقاعدہ قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلی سندھ میں پیش کرنے کی اجازت بھی دے دی۔
تھر کول اینڈ انرجی بورڈ ایکٹ میں ترامیم
کابینہ نے تھر کول اینڈ انرجی بورڈ (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دی اور اسے غور و خوض کے لیے صوبائی اسمبلی سندھ کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان ترامیم کا مقصد تھر کول اینڈ انرجی بورڈ کے قانونی اور ضابطہ جاتی کردار کو قومی ریگولیٹرز کے طرز پر مضبوط بنانا، تھر کول ٹیرف ڈیٹرمنیشن رولز 2014 کو ہم آہنگ کرنا اور منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری اور مدتِ ملازمت کے طریقہ کار کو مؤثر بنانا ہے۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ نظرثانی شدہ مسودہ بل سے تھر کول اور توانائی کے شعبے میں شفافیت، ٹیرف کے تعین اور باہمی رابطہ کاری میں بہتری آئے گی۔
ایس آر بی چیئرمین کو دو سال کی توسیع
کابینہ نے سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر واصف میمن کو دو سال کی توسیع دینے کی منظوری دی جو ان کی شاندار کارکردگی اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری کے اعتراف کے طور پر دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر واصف میمن کے دور میں محصولات کی وصولی میں 140 فیصد اضافہ ہوا جو سخت نفاذ، بہتر تعمیل اور ادارہ جاتی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ فیصلے کے تحت ڈاکٹر واصف میمن کی بطور چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ مدت دسمبر 2025 سے بڑھا کر دسمبر 2027 تک کر دی گئی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن میں عدالتی اراکین کی تقرری
کابینہ نے یکم دسمبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں سندھ ہیومن رائٹس کمیشن میں تین عدالتی اراکین کی تقرری کی توثیق کی۔ وزیر قانون، پارلیمانی امور و فوجداری استغاثہ، وزیراعلیٰ کے خصوصی معاون برائے انسانی حقوق، اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر مشتمل ایک کابینہ ذیلی کمیٹی نے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز کے سات رکنی پینل کا جائزہ لیا اور خالی آسامیوں کے لیے جن ناموں کی سفارش کی، ان میں اقبال حسین میتلو، آنند رام ڈیسرانی اور احمد لقمان میمن شامل ہیں۔ کابینہ نے ان تقرریوں کی منظوری دی، جس سے کمیشن میں عدالتی نمائندگی مزید مضبوط ہو گئی۔
ایم نائن تا این فائیو لنک روڈ منصوبے کے لیے ریلیف
کابینہ نے ایم نائن تا این فائیو لنک روڈ منصوبے کے کنسیشن معاہدے میں ترامیم کی منظوری دی تاکہ پہلے آپریشنل سال سے قبل اور اس کے بعد پیش آنے والے ریلیف ایونٹس کو شامل کیا جا سکے اور نقصانات کے درست حساب اور تصدیق کو یقینی بنایا جا سکے۔
کابینہ نے ایم نائن انٹرچینج کی تکمیل میں تاخیر کے باعث یکم جولائی 2024 سے 30 جون 2025 کی مدت کے لیے وائیبلٹی گیپ فنڈ سے کنسیشنائر کو 57 کروڑ 34 لاکھ 20 ہزار روپے کی ادائیگی کی بھی منظوری دی۔
سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے سی ای او کی تقرری
کابینہ نے سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر عرفان علی سوڈھڑ (پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، بی ایس 19) کی تقرری کی بعد از منظوری دے دی۔ عرفان علی سوڈھڑ کی تقرری جس کا نوٹیفکیشن سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ نے 10 نومبر 2025 کو جاری کیا تھا، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی ایکٹ 2022 (ترمیم شدہ 2023) کے مطابق ہے۔ سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی صوبے بھر میں سماجی تحفظ کے منصوبوں کی تشکیل، نفاذ اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔
Back