وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت ترقیاتی پورٹ فولیو 2025-26 کا جائزہ اجلاس
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت ترقیاتی پورٹ فولیو 2025-26 کا جائزہ اجلاس
Posted on: 19 Dec 2025 Tags:کراچی (29 نومبر): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ترقیاتی پورٹ فولیو کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ 16 فلیگ شپ منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ انہیں موجودہ مالی سال کے دوران عوامی خدمت کے لیے کھولا جاسکے۔ وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت 2025-26 کے جائزہ اجلاس کا انعقاد وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہوا، جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو، وزیر ورکس اینڈ سروسز حاجی علی حسن زرداری، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکرٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکرٹری وزیر اعلیٰ رحیم شیخ، سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز نواز سوہو، سیکرٹری صحت ریحان بلوچ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ محکمہ صحت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 پر تفصیلی بریفنگ دی، جو 178 اسکیموں پر مشتمل ہے، 140 جاری اور 38 نئی اسکیمیں شامل ہیں اور جن کے لیے 45.37 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ فنڈز کی تخصیص، اجراء اور اخراجات کی سخت نگرانی کی گئی ہے۔ 17 نومبر 2025 تک استعمال کی شرح 21 فی صد رہی۔ تدریسی اسپتالوں، ضلعی اسپتالوں، طبی تعلیم، حفاظتی پروگراموں اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
16فلیگ شپ صحت منصوبوں کی رفتار بڑھانے کی ہدایات
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے کے فلیگ شپ منصوبوں کا جائزہ لیا اور تمام محکموں کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار تیز کی جائے اور آئندہ مالی سال میں مقررہ وقت پر تکمیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی اسکیمیں انتہائی اہم اور جان بچانے والی سہولیات ہیں جنہیں کسی قسم کی تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
این آئی سی وی ڈی کا پیڈیاٹرک کارڈیک یونٹ
اجلاس کا آغاز نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز کراچی کے پیڈیاٹرک کارڈیک یونٹ کے جائزے سے ہوا۔ نظرثانی شدہ پی سی-ون 9.924 ارب روپے کی لاگت کے ساتھ جمع کرایا جاچکا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پی ڈی ڈبلیو پی کا اجلاس ہو چکا ہے اور لاگت میں اضافے کی منظوری کے لیے سمری وزیر اعلیٰ کو بھیج دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس عمل کو فوراً مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جان بچانے والا منصوبہ ہے اورلاگت میں اضافہ رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، اسے فوری طور پر حتمی شکل دیں۔
50بستروں پر مشتمل اسپتال ایف بی ایریا
وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ گلبرگ ٹاؤن انچولی، فیڈرل بی ایریا بلاک-13 میں 50 بستروں کے اسپتال کی عمارت مکمل ہوچکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ 148.196 ملین روپے جاری کرچکے ہیں لہٰذا خریداری کے عمل کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ منصوبہ موجودہ مالی سال میں مکمل ہوسکے۔
رزاق آباد میڈیکل کمپلیکس
نیشنل ہائی وے، رزاق آباد، بن قاسم ٹاؤن کے میڈیکل کمپلیکس کے لیے جون 2025 میں نظرثانی کی گئی تھی اور اس کی تکمیل کے لیے 3.082 ارب روپے اضافی درکار ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ 2025-26 کے دوران مختص کیے گئے فنڈز فوراً جاری کیے جائیں تاکہ تعمیر کی رفتار متاثر نہ ہو۔
گلشن حدید اسپتال
50 بستروں پر مشتمل گلشن حدید، ملیر کے اسپتال پر کام جاری ہے۔ منصوبہ مکمل فنڈڈ ہے اور خریداری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ اسکیم مالی سال 2025-26 میں مکمل ہوجائے گی۔
کمال گوٹھ ماﺅنٹی ہوم
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کمال خان گوٹھ کی ماﺅنٹی ہوم کو 50 بستروں کے اسپتال میں اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ مکمل فنڈڈ ہے لہٰذا خریداری کے عمل کو تیز کرکے منصوبہ آئندہ مالی سال میں مکمل کیا جائے۔
ویسکولر اور اینڈو ویسکولر سرجری ڈپارٹمنٹ
وزیر اعلیٰ نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر میں “امپیوٹیشن فری سندھ” کے تحت قائم کیے گئے ویسکولر اور اینڈو ویسکولر سرجری ڈپارٹمنٹس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مختص فنڈز کا 100 فی صد استعمال ہوچکا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو “ٹراما اور اعضا بچاؤ نگہداشت میں انقلابی قدم” قرار دیا۔
سول اسپتال کراچی
سول اسپتال کراچی کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے نئے منصوبے پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پی سی-ون تیار ہوچکا ہے، پری پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس بھی منعقد ہوچکا ہے اور ترمیم شدہ پی سی-ون تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے منظوری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ایمرجنسی یونٹ کی فوری تعمیرِ نو پر بھی زور دیا جس کے پی سی-ون پر نظرثانی جاری ہے اور کہا کہ مریضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے، لہٰذا کام فوراً آگے بڑھایا جائے۔
سعودآباد اسپتال کے منصوبے
سندھ گورنمنٹ اسپتال سعودآباد کے نفسیات اور ایمرجنسی یونٹ کی نظرثانی شدہ اسکیم پر بتایا گیا کہ این او سی جاری ہوچکی ہے اور 55.686 ملین روپے مزید درکار ہیں جنہیں ری-اپروپریشن کے ذریعے مہیا کیا جائے گا۔ خریداری کا عمل شروع ہوچکا ہے اور ورک آرڈرز بھی جاری ہوچکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ منصوبہ موجودہ مالی سال میں مکمل کیا جائے۔
دولت پور حادثاتی و ایمرجنسی سینٹر
ضلع شہید بینظیر آباد کے دولت پور میں حادثاتی و ایمرجنسی سینٹر کے لیے مختص 100 فی صد فنڈز جاری ہوچکے ہیں اور خریداری جاری ہے۔ منصوبہ مالی سال 2025-26 میں مکمل ہونے کی راہ پر ہے۔ گھوڑاباری کے نئے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال پر بھی کام جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ فنڈز جاری کرچکے ہیں، لہٰذا خریداری کا عمل شروع کرکے منصوبہ آئندہ مالی سال تک مکمل کیا جائے۔
**ماڈیولر آپریٹنگ تھیٹرز
اجلاس میں پانچ بڑے اسپتالوں میں ماڈیولر آپریٹنگ تھیٹرز کے قیام کا جائزہ لیا گیا: سول اسپتال کراچی، لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد، سی ایم سی اسپتال لاڑکانہ، انسٹی ٹیوٹ آف مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ نوابشاہ اور جی ایم ایم سی اسپتال سکھر۔ تمام پانچ منصوبے مالی سال 2025-26 میں مکمل ہوں گے اور منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
آر ایچ سی گڑھی خدا بخش
گڑھی خدا بخش بھٹو کے رورل ہیلتھ سینٹر کو 50 بستروں کے اسپتال میں اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بھی مکمل فنڈڈ ہے، خریداری جاری ہے اور تکمیل مالی سال 2025-26 میں متوقع ہے۔
ڈی ایچ کیو اسپتال
وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ خیرپور، بدین اور شکارپور کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی توسیع اور بہتری کے کام تسلسل سے جاری ہیں اور آئندہ سال مکمل ہوجائیں گے۔ ماتلی، قمبر اور عمرکوٹ کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتالوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کی سطح پر اپ گریڈ کرنے کے منصوبے بھی شیڈول کے مطابق جاری ہیں اور مالی سال 2025-26 میں مکمل ہوں گے۔ اجلاس میں لاڑکانہ کے 600 بستروں کے اسپتال کی تعمیر پر بھی غور کیا گیا۔ پی ڈی ڈبلیو پی نے پی سی-ون کی منظوری دے دی ہے اور وزیر اعلیٰ سمری پر دستخط کرکے اسے محکمہ خزانہ اور منصوبہ بندی و ترقیات کو بھیج چکے ہیں۔ محکمہ صحت پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی تیاری کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 600 بستروں پر مشتمل لاڑکانہ اسپتال بالائی سندھ کا بڑا صحت منصوبہ ہے، کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ صوبے بھر میں 16 فلیگ شپ ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کیا جائے اور انہیں موجودہ مالی سال کے دوران عوام کے لیے کھولنے کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں ممکنہ طور پر مکمل ہونے والی ایل ٹی بی سی اسکیموں، نئی سالانہ ترقیاتی پروگرام اسکیموں اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) بلاک منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 56 ایل ٹی بی سی اسکیموں میں سے 53 کی ریونیو خریداری شروع ہوچکی ہے اور پی سی-ون اور پی سی-فور کی دستاویزات پر بھی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔
Back