وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے رمضان انتظامی اور پرائس کنٹرول حکمت عملی طے کردی
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے رمضان انتظامی اور پرائس کنٹرول حکمت عملی طے کردی
Posted on: 20 Feb 2026 Tags:کراچی (18 فروری): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ماہِ مقدس رمضان کیلئے انتظامی اور پرائس کنٹرول حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے دی اور یوٹیلیٹی فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ سحر اور افطار کے اوقات میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے، جبکہ پولیس ٹریفک مینجمنٹ سمیت امن و امان برقرار رکھے گی۔
اجلاس میں صوبائی وزرا جام خان شورو، ضیاء الحسن لنجار اور ریاض شاہ شیرازی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، کمشنر کراچی حسن نقوی، صوبائی سیکریٹریز اور کے الیکٹرک (کے ای) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دیگر ڈویژنز کے کمشنرز اور ڈپٹی انسپکٹر جنرلز، حیسکو اور سیپکو کے نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔
مارکیٹ مانیٹرنگ
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ رمضان برکتوں کا مہینہ ہے اور تمام متعلقہ ادارے مستحق افراد کا خیال رکھیں۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
مجسٹریٹ اختیارات کی فراہمی
چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی منظوری سے صوبے بھر میں 480 افسران کو قیمتوں کی نگرانی اور منافع خوروں کے خلاف براہِ راست کارروائی کیلئے مجسٹریٹ اختیارات دیے گئے ہیں۔ رمضان ڈیوٹی کیلئے کمشنر کراچی کے اختیار میں مزید 50 افسران بھی دے دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ کل سے پرائس چیکنگ کا عمل شروع کیا جائے اور اشیائے خورونوش، پھل اور دیگر خوردنی اشیاء مقررہ نرخ نامے کے مطابق فروخت کرائی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کے الیکٹرک، حیسکو، سیپکو اور ایس ایس جی سی کو ہدایت کی کہ شہریوں کی سہولت کیلئے سحر اور افطار کے دوران زیرو لوڈشیڈنگ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے میئر کراچی کو شہر میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
ٹریفک کنٹرول
مراد علی شاہ نے ڈی آئی جی ٹریفک کو ہدایت کی کہ رش کے اوقات میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جائے، خصوصاً سہ پہر تین بجے سے افطار تک اور رمضان کے پندرہویں روز کے بعد رات کے اوقات میں ٹریفک انتظامات بہتر بنائے جائیں۔
شکایتی سیلز اور کیمپس
عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے وزیراعلیٰ نے متعدد اقدامات کی منظوری دی جن کے تحت صوبے بھر میں 195 شکایتی سیلز قائم کیے جائیں گے۔ کراچی کی بڑی مارکیٹوں میں 49 شکایتی کیمپس لگائے جا رہے ہیں۔ کراچی کے مختلف مارٹس اور سپر مارکیٹس میں ریٹیل قیمتوں کی نگرانی کیلئے 65 خصوصی کاؤنٹرز جبکہ بعض اضلاع میں 71 ڈپٹی کمشنر کاؤنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آٹے کی رعایتی اسٹالز مخصوص مقامات پر قائم کیے جائیں گے جن میں کیماڑی کے مقامات جیسے کفایہ مارٹ اور میٹرو کیش اینڈ کیری شامل ہیں تاکہ ضروری اشیاء رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا سکیں۔
قیمتوں کا تعین
اجلاس میں ضروری اشیائے خوردونوش کے موجودہ نرخوں اور نوٹیفکیشنز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فروری 2026 کے وسط تک جاری نوٹیفکیشنز کے مطابق گائے کا گوشت ایک ہزار سے تیرہ سو روپے فی کلو، بکرے کا گوشت 2200 روپے فی کلو، زندہ برائلر مرغی 334 روپے فی کلو اور چینی 140 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے جو عملدرآمد کیلئے معیار کے طور پر استعمال ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو شہر میں صفائی ستھرائی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس حوالے سے شکایات برداشت نہیں کی جائیں گی۔
حیدرآباد
حیدرآباد ڈویژن میں 55 بڑی مارکیٹوں میں نرخ نامے اور ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ 23 شکایتی سیلز قائم کیے گئے ہیں جبکہ 68 ٹیمیں شہر کے مختلف علاقوں کا مسلسل دورہ کریں گی۔ مخیر حضرات کے تعاون سے سستے بازار لگائے جا رہے ہیں۔ سات دسترخوان بھی قائم کیے جائیں گے جن میں چار حیدرآباد شہر میں ہوں گے، جہاں مفت سحر اور افطار فراہم کی جائے گی۔
سکھر اور لاڑکانہ
انتظامیہ نے ڈویژن بھر میں آٹے کی قیمت برقرار رکھی ہے۔ لاڑکانہ اور سکھر ڈویژن میں 51 افسران پرائس کنٹرول کی نگرانی کریں گے۔ لاڑکانہ میں ایک جبکہ سکھر میں دو دسترخوان قائم کیے جا رہے ہیں، ڈویژنل کمشنر نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی۔
شہید بینظیر آباد
ڈویژن بھر میں 60 شکایتی سیلز قائم کیے گئے ہیں۔ تاجروں کی تنظیموں کے تعاون سے 31 فیئر پرائس کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
میرپورخاص
ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز قیمتوں کے کنٹرول کی نگرانی کریں گے۔ 21 مارکیٹوں میں شکایتی سیلز قائم کیے گئے ہیں جبکہ ڈویژن بھر میں سستے بازار قائم کیے جا رہے ہیں۔
Back