وزیراعلٰیٰ سندھ مراد علی شاہ سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات
وزیراعلٰیٰ سندھ مراد علی شاہ سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات
Posted on: 01 Aug 2025 Tags:کراچی (31 جولائی) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی لاقات وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہوئی، جس میں سندھ اور برطانیہ کے درمیان جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لینس ڈوم، وزیر اعلیٰ کے معاونِ خصوصی قاسم نوید اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس میں سید مراد علی شاہ کو بطور وزیر اعلیٰ سندھ مسلسل تیسری مدت ملنے پر مبارکباد دی گئی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سراہا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس کو کراچی میں امن کی بحالی اور شہر کی رونقیں بحال کرنے کے لیے جاری بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ بھر میں سڑکوں کے جال کو وسعت دی گئی ہے جن میں کراچی میں سڑکوں، فلائی اوورز، انڈرپاسز اور نکاسیٔ آب کے نظام کی تعمیر شامل ہے۔ شہر میں شاہراہِ بھٹو، نیو لنک روڈ، بی آر ٹی ریڈ لائن اور یلو لائن جیسے منصوبے زیرِ تعمیر ہیں تاکہ شہری ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جا سکے۔
مراد علی شاہ نے پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبوں، کے فور، نیا حب کینال اور ڈی ایچ اے واٹر سپلائی پروجیکٹس پر بھی روشنی ڈالی۔ کراچی کے نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے زرعی زمینوں کو سیلاب سے بچانے کے لیے پرانی آبی گزرگاہوں کو بحال کیا ہے جبکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ صوبے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اسپیشل اکنامک زونز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں حالیہ سیلاب متاثرین کی بحالی، متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری اور مکانات کی دوبارہ تعمیر جیسے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے گزشتہ دہائی کے دوران بڑے بجلی گھروں اور ٹرانسمیشن لائنوں کی تنصیب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ میں بجلی، نکاسی آب اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہ ملاقات سندھ کے بنیادی ڈھانچے، سماجی بہبود اور معاشی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے موجودہ صوبائی حکومت کے تحت جاری تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔
برطانوی ہائی کمیشن (فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس) نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) منصوبے کے تحت سندھ کو معاونت فراہم کی ہے جس کے تحت 1 کروڑ 54 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی گرانٹ اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 7 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کیا گیا ہے۔ اس مالی معاونت سے لبِ مہران سیاحتی منصوبہ اور دھابیجی اسپیشل اکنامک زون جیسے منصوبے ممکن ہوئے۔
اس کے علاوہ ایف سی ڈی او نے 2022 کے سیلاب کے بعد قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور تیاری کو بہتر بنانے کے لیے رسک گورننس فریم ورک منصوبے میں بھی تعاون کیا ہے جس میں ڈیجیٹل ڈیزاسٹر ڈیٹا ڈیش بورڈ اور موبائل ڈیزاسٹر ایپ شامل ہے۔ ایک اور منصوبہ 'نیشنل گورننس پروگرام' ہے جو وفاقی اور صوبائی اداروں کو مضبوط بنانے اور بہتر ہم آہنگی اور حکمرانی کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
آئندہ مجوزہ تعاون میں تعلیم کے شعبے میں اسکولوں کی بحالی، استعداد کار میں اضافہ اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم) کی لیبارٹریوں کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ سماجی تحفظ کے منصوبے بھی تجویز کیے گئے ہیں جن میں مربوط نظام، صحت کی سہولیات، فنی تربیت، خواتین کو بااختیار بنانا اور ڈیجیٹل تبدیلی شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے مالی مہارت کی بنیاد پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں سندھ کی قیادت کو اجاگر کیا اور برطانیہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے برطانوی ہائی کمیشن کی مالی و تکنیکی معاونت سے جاری بنیادی ڈھانچے اور ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
یہ ملاقات سندھ اور برطانیہ کے درمیان معیشت، بنیادی ڈھانچے، سماجی ترقی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تعاون کے عزم کا مظہر ہے، جسے ایف سی ڈی او کی مالی و تکنیکی معاونت حاصل ہے۔
Back