وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ورلڈ بینک کے وفد سے دو الگ الگ ملاقاتیں

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ورلڈ بینک کے وفد سے دو الگ الگ ملاقاتیں

Posted on: 27 Aug 2025   Tags:

کراچی (26 اگست) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ عالمی بینک کے وفد سے دو الگ الگ تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ وفد کی قیادت کنٹری ڈائریکٹر مس بولورما آمگابازار نے کی۔ پہلی ملاقات میں اہم مالیاتی اصلاحات پر غور کیا گیا جن کا مقصد محصولات میں اضافہ اور خدمات کی فراہمی کے ایسے طریقہ کار کو مضبوط بنانا ہے جو طویل المدتی اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ دوسری ملاقات میں عالمی بینک کے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مالی معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر نظام قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔

یہ ملاقات وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوئی جس میں شرجیل میمن، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، ناصر شاہ، سردار شاہ، جام خان شورو، محمد علی ملکانی، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی اور دیگر شریک تھے۔ عالمی بینک کے وفد میں آپریشنز منیجر ڈراوگیلس، آپریشنز آفیسر حنا سلیم، ڈویلپمنٹ اسپیشلسٹ کامران اکبر اور دیگر شامل تھے۔

پہلی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ انسانی ترقی کے شعبے میں سست پیش رفت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں مشترکہ کاوشوں سے حل تلاش کیے جائیں گے۔ ملاقات میں جو حکمت عملیاں زیر غور آئیں ان میں محصولات کی وصولی کو مزید مؤثر بنانا، صوبائی آمدنی میں اضافے کے لیے زرعی آمدنی ٹیکس، خدمات پر سیلز ٹیکس اور جائیداد ٹیکس کو مضبوط کرنا شامل تھا۔

اخراجات کے معیار میں بہتری

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معیاری تعلیم اور صحت کے اخراجات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پنشن اصلاحات، جو صوبائی حکومت پہلے ہی متعارف کرا چکی ہے اور سرکاری ادائیگیوں کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔

ڈیٹا کے نظام کو بہتر بنانا

ادارہ شماریات سندھ میں اصلاحات پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ مالیاتی اور خدمات کی فراہمی کے نتائج کو زیادہ مؤثر انداز میں جانچا جا سکے۔ اس ضمن میں انتظامی اور سروے ڈیٹا کے انضمام اور ٹیکس کی پیش گوئی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے سندھ پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈویلپمنٹ (پرِڈ) کا ڈھانچہ قائم کیا ہے جس کا مقصد صوبے کے اپنے ذرائع آمدن کو بڑھانا، جامع پنشن اصلاحات کو نافذ کرنا اور اسکولوں کے لیے بروقت بجٹ مختص کرنا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسا مضبوط اعداد و شمار کا نظام تشکیل دینے کی کوشش ہے جو شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے معاون ثابت ہو۔

اس اقدام کے تحت زرعی آمدنی ٹیکس کی وصولی میں بہتری اور سندھ سیلز ٹیکس کی سال بہ سال بڑھتی ہوئی وصولیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔ مزید یہ کہ حکومتی وینڈرز کو ادائیگیاں مرحلہ وار ڈیجیٹل نظام کے تحت منتقل کی جائیں گی تاکہ مالیاتی نظام زیادہ مؤثر بنایا جا سکے، وزیراعلیٰ نے کہا۔

سندھ حکومت خدمات کی فراہمی کے معیار کو بہتر بنانے اور شفافیت و جوابدہی کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے ان اہم اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔

Back