وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر خیرپور میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس آپریشن، 12 مغوی بازیاب
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر خیرپور میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس آپریشن، 12 مغوی بازیاب
Posted on: 14 May 2025 Tags:کراچی (14 مئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر سکھر اور خیرپور کی پولیس نے دریائی (کچے) علاقے میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف بڑا آپریشن ۔ اغواکاروں سے 12 مغوی افراد کو بازیاب کرا لیا گیا۔
یہ آپریشن 12 مئی کو سکھر کے باگڑجی کچے علاقے میں شروع ہوا اور 13 مئی تک جاری رہا۔ کارروائی کے دوران پولیس کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، ڈاکوؤں نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، جن میں 12.7 ایم ایم مشین گنیں، جی تھری رائفلیں، سب مشین گنیں (ایس ایم جیز)، دستی بم اور راکٹ لانچر شامل تھے۔ اس کے باوجود پولیس اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجرموں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے اور کئی اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
آپریشن کے علاقے کا مشکل جغرافیہ بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ ڈاکوؤں نے بکتر بند گاڑیوں (اے پی سیز) کی نقل و حرکت روکنے کے لیے گڑھے کھود رکھے تھے جبکہ گھنا جنگل پولیس کی پیش قدمی میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور قوت کے ساتھ کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آپریشن کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں بھاری نفری اور جدید سازوسامان استعمال کیا گیا۔ پانچ بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) شامل کی گئیں جن میں دو آئی جی پول سے، دو گھوٹکی اور ایک سکھر سے فراہم کی گئی۔ فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز بھی استعمال کیے گئے تاکہ زمینی کارروائی کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جا سکے۔
یہ آپریشن ایس ایس پی سکھر اظہر خان اور ایس ایس پی خیرپور حسن سردار کی قیادت میں کیا گیا 100 سے زائد پولیس اہلکار شامل تھے جن میں چھ ایس ایچ اوز اور دو ڈی ایس پیز بھی شامل تھے۔
کارروائی کے دوران بدنام زمانہ ڈاکو رجب جتوئی کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ اگرچہ رجب جتوئی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس کا مرکزی اڈہ مکمل طور پر نذرِ آتش ہو گیا۔ کارروائی میں چھ ڈاکو زخمی ہوئے جن میں کشمیر جتوئی کا کزن سلامو جتوئی، تیغانی گینگ کا ایک رکن (شناخت زیرِ تصدیق) اور رحیمو پھلپوٹو گینگ و جتوئی گینگ کے چار دیگر نامعلوم افراد شامل ہیں۔ آپریشن کے دوران 12 مغویوں کو بازیاب کرایا گیا، جن میں نو کا تعلق خیرپور اور تین کا سکھر سے تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے قانون کی بالادستی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
یہ مربوط آپریشنز کچے کے ان علاقوں میں ریاستی رٹ کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہیں جو طویل عرصے سے ڈاکوؤں کے محفوظ ٹھکانے سمجھے جاتے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق علاقے سے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن کے مزید مراحل کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
Back