سندھ میں رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کی ریکارڈ کامیابی، وزیراعلیٰ کا اظہار اطمینان
سندھ میں رواں سال کی پہلی انسداد پولیو مہم کی ریکارڈ کامیابی، وزیراعلیٰ کا اظہار اطمینان
Posted on: 20 Feb 2026 Tags:کراچی (11 فروری): سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سال 2026 کے پہلے قومی انسداد پولیو دنوں (این آئی ڈیز) کے دوران حاصل کی گئی بلند شرح کوریج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجموعی انتظامی کوریج 100 فیصد رہی جبکہ گھر گھر جا کر ویکسینیشن کی شرح صوبے بھر میں 99 فیصد رہی۔
صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (پی ای او سی) نے بدھ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں 2 سے 8 فروری 2026 تک جاری رہنے والی صوبائی انسداد پولیو مہم پر مفصل رپورٹ پیش کی۔
ان حوصلہ افزا اعداد و شمار کے باوجود رپورٹ میں تقریباً 2 لاکھ 37 ہزار 216 ایسے بچوں کی نشاندہی کی گئی جنہیں تاحال ویکسین نہیں دی جا سکی (2.6 فیصد)، جن کی بڑی تعداد کراچی اور حیدرآباد ڈویژنز میں ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی بچے کو وائرس کے خطرے سے دوچار نہ رہنے دیا جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ والدین، معاشرے، میڈیا اور حکومت کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں تو ہم اپنے بچوں کو معذوری سے بچا سکتے ہیں اور پاکستان کے لیے صحت مند مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ ہماری قومی ذمہ داری ہے اور سندھ حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پولیو قابو میں ہے تاہم وائرس اب بھی موجود ہے اور غفلت ان کامیابیوں کو ضائع کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ باعث شرم ہے کہ دنیا میں صرف دو ممالک افغانستان اور پاکستان ایسے ہیں جہاں یہ بیماری موجود ہے۔ اس سے نجات حاصل کرنے کا واحد طریقہ ویکسینیشن ہے۔
مراد علی شاہ نے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز میں رسائی مزید تیز کی جائے تاکہ باقی رہ جانے والے بچوں تک پہنچا جا سکے۔ انہوں نے صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (پی ای او سی) کو ہدایت کی کہ صفر خوراک والے بچوں کے لیے فالو اپ سرگرمیوں کو ترجیح دی جائے تاکہ ان کی قوت مدافعت مضبوط بنائی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی کہ یونین کونسل سطح پر فعال نگرانی برقرار رکھیں تاکہ کوریج میں کسی بھی مقامی خلا کو دور کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے میڈیا اداروں سے درخواست کی کہ وہ عوام میں ویکسین کی طلب برقرار رکھنے کے لیے خبروں کے بلیٹن کے آغاز میں پولیو آگاہی پیغامات نشر کرتے رہیں۔ انہوں نے مقامی یونین کونسل نمائندوں اور علمائے کرام کو ہدایت دی کہ وہ ان خاندانوں کی رہنمائی کریں جو اب بھی اپنے بچوں کو ویکسین لگوانے سے ہچکچا رہے ہیں۔
رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ صحت مند مستقبل کے لیے ناگزیر ہے اور اس بیماری کے خاتمے کو بچوں کی جسمانی نشوونما اور فلاح و بہبود سے براہ راست جوڑا۔ انہوں نے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور بچوں کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 100 فیصد انتظامی کوریج حاصل کی گئی۔ گھر گھر جا کر ویکسینیشن کی شرح 99 فیصد رہی جبکہ ریکال کوریج 94 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مہم کے دوران تقریباً 2 لاکھ 37 ہزار بچوں (2.6 فیصد سے زائد) کو ویکسین نہیں دی جا سکی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ بغیر ویکسین بچوں تک فوری رسائی کو اولین ترجیح بنایا جائے اور مکمل ویکسینیشن یقینی بنانے کے لیے سخت اور فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی اور حکام کو نگرانی اور عمل درآمد کے نظام کو مزید سخت بنانے کا حکم دیا۔
ڈویژن کے لحاظ سے کوریج کے مطابق کراچی ڈویژن میں 101 فیصد انتظامی کوریج ریکارڈ کی گئی جبکہ گھر گھر جا کر ویکسینیشن کی شرح 97 فیصد اور بچوں کے رہ جانے کی شرح 4.6 فیصد رہی۔
حیدرآباد ڈویژن میں 99 فیصد انتظامی اور گھر گھر کوریج حاصل کی گئی جبکہ 2.4 فیصد بچے رہ گئے۔
میرپورخاص ڈویژن میں 101 فیصد انتظامی اور 100 فیصد گھر گھر کوریج حاصل کی گئی جبکہ 2 فیصد بچے رہ گئے۔
لاڑکانہ ڈویژن میں 99 فیصد انتظامی اور گھر گھر کوریج حاصل کی گئی جبکہ 2.2 فیصد بچے رہ گئے۔
سکھر ڈویژن میں 99 فیصد انتظامی اور گھر گھر کوریج حاصل کی گئی جبکہ 2 فیصد بچے رہ گئے۔
شہید بینظیرآباد ڈویژن میں 100 فیصد انتظامی اور گھر گھر کوریج حاصل کی گئی جبکہ صرف 1 فیصد بچے رہ گئے۔
وزیراعلیٰ نے فیصلہ کیا کہ صوبائی سطح پر پولیو مہم کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
والدین سے اپیل کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت پولیو سے پاک صوبہ بنانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔