سندھ وژن 2030 کے حصول میں ورلڈ بینک کا مسلسل تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلیٰ سندھ
سندھ وژن 2030 کے حصول میں ورلڈ بینک کا مسلسل تعاون قابل ستائش ہے، وزیراعلیٰ سندھ
Posted on: 20 Feb 2026 Tags:
کراچی (4 فروری): وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بانگا کے ساتھ تفصیلی اجلاس کیا تاکہ سندھ کی ترقیاتی ترجیحات کو ورلڈ بینک کی روزگار کو اولین ترجیح دینے والی عالمی حکمتِ عملی اور پاکستان کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (2026 تا 2035) کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔
ورلڈ بینک کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے سندھ وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں بینک کے مسلسل تعاون کو سراہا اور بتایا کہ سندھ میں اس وقت ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں کی مجموعی مالیت 3.86 ارب ڈالر ہے جو مختلف شعبہ جات پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سندھ کے طویل مدتی ترقیاتی روڈ میپ سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی، پرنسپل سیکریٹری وزیرِ اعلیٰ سندھ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
*روزگار کی تخلیق*
ورلڈ بینک کے صدر نے نشاندہی کی کہ دنیا ایک بڑے آبادیاتی تغیر کے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ترقی پذیر ممالک میں آئندہ دہائی کے دوران 1.2 ارب نوجوان افرادی قوت کا حصہ بنیں گے جبکہ صرف 40 کروڑ ملازمتوں کی دستیابی کا امکان ہے۔ پاکستان میں جہاں آئندہ 5 برسوں میں آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کرنے کی توقع ہے روزگار کی تخلیق کو معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ دانشمندانہ عوامی سرمایہ کاری کی معاونت کے ساتھ نجی شعبے کی قیادت میں روزگار کی تخلیق، ترقیاتی پالیسی کا بنیادی ستون ہونی چاہیے۔ وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے چھوٹے اور نئے کاروباری اداروں پر توجہ دینے کا ذکر کیا ۔
*پانی، صفائی اور غذائی کمی میں کمی*
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صاف پینے کے پانی تک رسائی اور زچہ و بچہ صحت کی سہولیات سندھ میں بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کو کم کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد رہائشی تعمیر نو منصوبے کی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے دیہی علاقوں میں اسٹارز واش پروگرام شروع کیا ہے، جسے ورلڈ بینک کے 300 ملین ڈالر کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 100 ملین ڈالر بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پانی کی فراہمی، صفائی اور گندے پانی کے علاج کے منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہے اور سندھ ان اقدامات کو پورے صوبے تک وسعت دینے کے لیے ورلڈ بینک کو اپنا قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے۔
اجلاس میں شہری آبی نظام، بشمول کراچی واٹر اور گندے پانی کو صاف کرنے کے منصوبے جیسے ٹی پی 4 کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا جن کے لیے دریائے سندھ کے طاس کے تناظر میں جامع منصوبہ بندی ضروری ہے۔
*صحت اور سماجی تحفظ*
صحت کے شعبے میں وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے میں ممتا پروگرام اور 1000 دن سندھ مربوط صحت منصوبہ سمیت اہم پروگراموں کو پورے صوبے تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ممتا پروگرام پہلے ہی 15 سے بڑھ کر 22 اضلاع تک پھیل چکا ہے جبکہ 1000 دن منصوبے کے تحت 1600 کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی بھرتی کی جا رہی ہے جسے حکومت تمام سرکاری صحت مراکز تک وسعت دینا چاہتی ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر نے ابتدائی عمر میں غذائیت پر سندھ کی توجہ کو سراہا اور نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا جس میں آؤٹ پیشنٹ تھیراپیوٹک پروگرام کے ذریعے بچوں کی زیادہ اسکریننگ شامل ہے۔
*زراعت، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور سرمایہ کاری*
زراعت اور زرعی کاروبار کو روزگار پیدا کرنے والے اہم شعبے قرار دیا گیا۔ چھوٹے کسانوں کو گزارہ زراعت سے منافع بخش پیداوار کی جانب منتقل کرنے میں معاون ورلڈ بینک کے ایگری کنیکٹ اقدام پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ سندھ کی جانب سے ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور دیہی آمدنی بڑھانے کی کوششوں پر بھی غور کیا گیا۔
مراد علی شاہ نے 5 سالہ سندھ ایس ایم ای ترقی اور روزگار تخلیق پروگرام کی تجویز بھی پیش کی جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا، پیداواریت بڑھانا، کاروباروں کو باضابطہ بنانا اور خواتین کی معاشی شمولیت کو تیز کرنا ہے۔
*مضبوط بنیادی ڈھانچہ اور رہائش*
دونوں فریقین نے سندھ سیلاب ہاؤسنگ تعمیر نو پروگرام کا جائزہ لیا جسے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے عالمی نمونے کے طور پر قرار دیا گیا۔ 2.1 ملین گھروں کی تعمیر نو، جن میں سے 1.5 ملین گھروں پر کام جاری ہے، مقامی سطح پر روزگار پیدا کر رہی ہے اور خواتین کو بااختیار بنا رہی ہے جبکہ 100,000 سے زائد خواتین کو پہلی مرتبہ زمین کی ملکیت دی گئی ہے۔
*طویل مدتی شراکت داری*
اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں ترقیاتی اقدامات کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیرِ اعلیٰ نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ استحکام کو روزگار سے بھرپور، جامع اور ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر نے توانائی، مہارتوں کی ترقی، صحت، زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سندھ کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ پاکستان کا آبادیاتی چیلنج خطرے کے بجائے مواقع میں تبدیل ہو سکے۔
Back