عالمی بینک کی معاونت سے چلنے والے 4 بڑے منصوبوں پر کام کی پیش رفت کا جائزہ، منصوبوں کی تکمیل سے انقلابی تبدیلیاں آئیں گی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
عالمی بینک کی معاونت سے چلنے والے 4 بڑے منصوبوں پر کام کی پیش رفت کا جائزہ، منصوبوں کی تکمیل سے انقلابی تبدیلیاں آئیں گی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
Posted on: 16 May 2025 Tags:کراچی (15 مئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسینی کی قیادت میں 10 رکنی وفد سے ملاقات کی۔ عالمی بینک کی مالی اعانت کے تحت چار بڑے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد فوری طور پر تیز کیا جائے تاکہ سندھ بھر کےعوام کو بروقت فوائد فراہم کیے جا سکیں۔
یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر عذرا پیچوہو (وزیر صحت)، سعید غنی (وزیر بلدیات)، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سرفراز راجپر اور محکمہ صحت، سماجی تحفظ اور بلدیات کے اعلیٰ سیکریٹریز نے شرکت کی۔ ورلڈ بینک کے وفد میں 10 ماہرین شامل تھے جن میں آپریشن آفیسر حنا سلیم لوٹیا، پریکٹس مینیجر جوسس موگابی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اسپیشلسٹ محترمہ لیسلی جین یو سمیت دیگر ماہرین شامل تھے۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ
پہلے مرحلے کی کامیابی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی 2 کا مقصد کراچی بھر میں پانی اور نکاسی آب کی خدمات کو وسعت دینا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ منصوبے کا نیا پروجیکٹ آپریشنل مینوئل ( پی او ایم) تیار کر کے ورلڈ بینک کو منظوری کے لیے جمع کرا دیا گیا ہے۔ اس مینوئل میں منصوبے کے نفاذ کے یونٹ ( پی آئی یو) کے لیے پالیسیاں، طریقہ کار اور تازہ تنظیمی ڈھانچہ شامل ہے جو ماحولیات، سماجی تحفظ، صنفی مساوات، مالیات، خریداری، پیشہ ورانہ صحت و تحفظ، تکنیکی امور، مواصلات، نگرانی و جائزہ، جی آئی ایس اور آئی ٹی کے شعبوں میں ماہر کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی آئی یو منصوبہ ڈائریکٹر کو رپورٹ کرتا رہے گا جسے تمام منصوبہ جاتی فیصلوں کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ یہ حکمتِ عملی کراچی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
سندھ انٹیگریٹڈ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن 1000 ڈیز پروجیکٹ
61.6ارب روپے کے بجٹ کے ساتھ یہ ایک بلند عزائم منصوبہ ہے جس کا مقصد 392 سرکاری ڈسپنسریوں اور 121 بنیادی صحت مراکز کی بحالی اور اپ گریڈیشن ہے تاکہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کی جا سکے۔ اس منصوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے جس کے تحت ہنر کی تربیت اور مائیکروفنانس کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
صوبائی حکومت کے مطابق صحت کے مراکز کے پہلے مرحلے کا سروے مکمل ہونے کے بعد ممکنہ ٹھیکیداروں کے لیے ایک روڈ شو 19 مئی 2025 کو منعقد کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ سندھ میں یونیورسل ہیلتھ کوریج کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
سوشل پروٹیکشن ڈلیوری سسٹم
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ 48.3 ارب روپے کا منصوبہ 15 دیہی اضلاع میں سب سے زیادہ متاثرہ اور پسماندہ طبقات کو ہدف بنا رہا ہے اور اب تک اس میں 6 لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کو رجسٹر کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس نظام میں رئیل ٹائم ادائیگی کی سہولیات اور نئے آپریشنل دفاتر قائم کیے گئے ہیں تاکہ سماجی تحفظ کے فوائد مؤثر طریقے سے فراہم کیے جا سکیں۔ یہ نظام اور سماجی و اقتصادی بہتری کے ساتھ ساتھ صحت کی ضروریات پوری کرتا رہےگا۔
سندھ ٹرانسفارمیشنل ایکسیلریٹڈ رورل واٹر سپلائی، سینیٹیشن اینڈ ہائجین سروسز( اسٹار واش)
یہ 400 ملین ڈالر کی ورلڈ بینک معاونت سے جاری منصوبہ ہے جسے ایشیائی ترقیاتی بینک سے مزید300ملین ڈالر کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اسٹار واش کا مقصد نو اضلاع میں دیہی علاقوں میں صاف پانی، نکاسی آب اور صفائی کی خدمات کو بہتر بنانا ہے۔
بیج فنڈنگ، بھرتیوں اور آپریشنل سیٹ اپ کا عمل رکا ہوا ہے جس سے منصوبوں کی مقررہ مدت اور بین الاقوامی اعتماد کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں سندھ حکومت نے ورلڈ بینک کے ساتھ اعلیٰ سطح کی مشاورت اور عارضی فنڈز کی فراہمی کی تجویز دی ہے تاکہ منصوبوں کی رفتار بحال کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ان منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ منصوبے سندھ کے صحت، پانی، صفائی اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
ورلڈ بینک کے وفد نے ان منصوبوں کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے بروقت منظوری اور تکنیکی معاونت کی یقین دہانی کرائی تاکہ درپیش رکاوٹوں پر قابو پایا جا سکے۔
سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے درمیان یہ اشتراک پائیدار ترقی کے فروغ، عوامی سہولیات میں بہتری اور صوبے کے لاکھوں شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔
Back