کے فور توسیعی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ ، وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی یونیورسٹی میں پانی کی لائٹ پھٹنے پر تشویش کا اظہار
کے فور توسیعی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ ، وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی یونیورسٹی میں پانی کی لائٹ پھٹنے پر تشویش کا اظہار
Posted on: 10 May 2025 Tags:وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی یونیورسٹی میں پانی کی لائٹ پھٹنے پر تشویش کا اظہار
ہر روز کسی نہ کسی جگہ پانی کی لائن پھٹنا ناقابل قبول ہے، مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی کی تمام لائنوں کی مرمت کیلیے پنج سالہ منصوبہ بنانے کا حکم
کے فور توسیعی منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ ، آئندہ 3 ماہ میں عملی کام شروع کرنے کی ہدایت
کراچی (9 مئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کے فور توسیعی منصوبے پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کراچی یونیورسٹی میں پانی کی لائن پھٹنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور واٹر بورڈ کو فوری مرمت اور پانی کی فراہمی بحال کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی جگہ پانی کی بڑی لائن پھٹ جاتی ہے جس کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے لہٰذا اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔
یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر توانائی ناصر شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، ایم ڈی واٹر بورڈ احمد علی صدیقی اور کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شریک تھے۔
اجلاس کے آغاز پر وزیراعلیٰ نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ تمام پرانی لائنوں کا جامع سروے کیا جائے اور ان کی مرمت کے لیے پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ واٹر بورڈ کو اپنے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔
کے فور توسیعی منصوبہ
وزیراعلیٰ سندھ نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم (کے فور) کے توسیعی منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے منصوبے کو کراچی میں پانی کے دیرینہ بحران کے حل کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیا اور تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ انتظامی رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت دی کہ ٹینڈرنگ کا عمل تیز کیا جائے اور تمام ضروری این او سیز حاصل کی جائیں تاکہ 71.8 ارب روپے کے کے-فور توسیعی منصوبے پر آئندہ تین ماہ میں عملی کام شروع کیا جا سکے۔
یہ منصوبہ محکمہ بلدیات کے تحت ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک ( اے آئی آئی بی)، عالمی بینک اور حکومت سندھ کی مالی معاونت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ مختلف پیکجز پر مشتمل ہے جن میں پیکج اے کے تحت ریزروائر 1 سے وائی جنکشن تک پانی کی منتقلی کی مرکزی لائن، پیکج بی ون کے تحت ریزروائر 2 سے فیڈرل اردو یونیورسٹی تک، پیکج بی 2 کے تحت فیڈرل اردو یونیورسٹی سے گل بائی تک اور پیکج سی کے تحت ریزروائر تین سے بنارس تک لائن کی تعمیر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک 2.7 کلومیٹر طویل مشترکہ کوریڈوربھی منصوبے میں شامل ہے جو کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ نظام کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
پلاننگ کمیشن کی ہدایات کے مطابق منصوبے کے ڈیزائن کی تیاری اور جائزے کا عمل ایک بین الاقوامی آسٹریائی فرم سے کرایا گیا۔ بولی کے دستاویزات تیار کر لیے گئے ہیں اور سپروژن کنسلٹنٹ کی نگرانی میں ان کی اپڈیٹنگ جاری ہے۔
کنسٹرکشن سپروژن کنسلٹنٹ ( سی ایس سی) کی خدمات حاصل کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ٹیکنیکل اور فنانشل پروپوزلز کے ٹیکنیکل ایویلیوایشن رپورٹ ( ٹی ای آر) کی منظوری عالمی بینک سے حاصل کر لی گئی ہے۔ مالیاتی تجاویز گزشتہ ماہ کھولی گئیں اور کنٹریکٹ ایویلیوایشن رپورٹ ( سی ای آر) بھی عالمی بینک کو فراہم کر دی گئی ہے۔ نو آبجیکشن لیٹر ( این او ایل) کی منظوری کے بعد 6 مئی کو لیٹر آف ایوارڈ جاری کر دیا گیا جبکہ معاہدے پر دستخط 12 مئی 2025 کو متوقع ہیں۔
منصوبے کو آسان بنانے کے لیے 18 مختلف اداروں سے این او سیز کی درخواست کی گئی تھی جن میں سے اب تک سات اداروں سے این او سیز حاصل کر لی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کے فور توسیعی منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں گے تاکہ کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کو صاف پانی کی فراہمی مساوی بنیادوں پر ممکن ہو سکے۔
Back