وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا لاڑکانہ میں کسان امدادی پروگرام سے خطاب

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا لاڑکانہ میں کسان امدادی پروگرام سے خطاب

Posted on: 23 Nov 2025   Tags:

پروگرام کا مقصد 35 من فی ایکڑ تک گندم کی پیداوار حاصل کرنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

ماضی میں گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ کرنا مہنگا پڑا، وزیراعلیٰ سندھ

حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود کےلیے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

لاڑکانہ (10 نومبر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کسان امدادی پروگرام زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد فی ایکڑ گندم کی اوسط پیداوار کو 35 من تک بڑھانا ہے۔ اس ہدف کے حصول سے کاشتکاروں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے یہ بات پیر کے روز پولیس ٹریننگ گراؤنڈ لارکانہ میں کسان امدادی پروگرام کے تحت ڈی اے پی اور یوریا بیگوں کی خریداری کے لیے براہ راست نقد رقوم کی منتقلی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس کا افتتاح پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ گندم کے لیے امدادی قیمت مقرر نہ کرنے کی غلطی سے مہنگی درآمدات کرنا پڑیں۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر کسانوں کو ان کی پیداوار کا منصفانہ معاوضہ دینے کےلیے انہوں نے وفاقی حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بات چیت کی ہے تاکہ کم از کم امدادی قیمت اور گندم خریداری کی یقین دہانی حاصل کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے معیشت میں کسانوں کے کردار کو سراہتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی اور کسانوں کی فلاح کے لیے ان کی مسلسل دلچسپی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اسلام آباد میں مصروف شیڈول کے باوجود لاڑکانہ کا دورہ ترجیحی بنیادوں پر کیا۔

انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سندھ کی تاریخ کا بدترین سانحہ تھا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس وقت کے وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے فوری طور پر اپنے تمام سرکاری مصروفیات معطل کرکے لاڑکانہ میں امدادی سرگرمیوں کی خود نگرانی کی۔ بلاول بھٹو کی ہدایت پر سندھ حکومت نے متاثرہ آبادی خصوصاً کسانوں کی بحالی کی مکمل ذمہ داری سنبھالی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو کے وژن کے تحت بڑے پیمانے پر مکانات کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے تعاون سے حکومت سندھ نے سیلابی چیلنجز کے باوجود گندم کی کاشت اور آبی انتظام میں بہتری کے اقدامات کیے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ موجودہ منصوبے کے تحت 56 ارب روپے کی رقم براہ راست نقد امداد کی صورت میں ان چھوٹے کسانوں کو دی جا رہی ہے جن کے پاس 25 ایکڑ تک زمین ہے۔ یہ رقم ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی خریداری کے لیے مختص کی گئی ہے اور سندھ بینک سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ یقینی بنانے کے لیے ہفتہ وار مانیٹرنگ کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے دیہی کسانوں کی خوشحالی کو سندھ اور پاکستان کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ کے زرعی شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

Back